World
جیسن آرڈے کی موت: میڈیا پر نسل پرستی کا الزام اور لندن میں مظاہرے
کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی موت کے بعد لندن میں ہزاروں افراد نے سوگ منایا اور ان کی وفات کا ذمہ دار میڈیا کی مسلسل منفی کوریج کو ٹھہرایا۔ لواحقین اور حامیوں کا ماننا ہے کہ میڈیا کے نسل پرستانہ رویے نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
لندن کی سڑکوں پر ایک بڑا ہجوم اس وقت امڈ آیا جب ہزاروں افراد نے کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے کی یاد میں ایک تعزیتی ریلی نکالی۔ اس غمگین موقع پر شرکاء نے کھل کر میڈیا کے اس کردار پر تنقید کی جسے وہ جیسن آرڈے کی موت کا براہ راست ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پروفیسر آرڈے طویل عرصے سے میڈیا کی جانب سے کی جانے والی مسلسل اور غیر منصفانہ تنقید کی زد میں تھے جس نے نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ ان کی ذہنی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا۔
ریلی کے دوران شرکاء نے 'نسل پرستانہ میڈیا بند کرو' اور 'سچ بولو' کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو احتساب کے نام پر کسی بھی فرد، خاص طور پر اقلیتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین تعلیم کو نشانہ بنانے کا حق نہیں ہے۔ ان کے قریبی ساتھیوں نے بتایا کہ جیسن آرڈے کو کئی ماہ سے میڈیا کی جانب سے بے جا دباؤ کا سامنا تھا، جس نے انہیں شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا تھا۔ یہ صورتحال معاشرے میں موجود گہری تقسیم اور تعصب کی عکاس ہے جو اب علمی حلقوں تک سرایت کر چکی ہے۔
ماہرینِ نفسیات اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اکثر افراد کو تنہائی اور ڈپریشن کی گہرائیوں میں دھکیل دیتا ہے۔ لندن کے تعزیتی اجتماع میں شامل لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کو اپنے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کرنی چاہیے تاکہ آئندہ کسی اور باصلاحیت شخصیت کو اس طرح کے ظالمانہ میڈیا ٹرائل کا شکار نہ ہونا پڑے۔ جیسن آرڈے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے والے ان کے شاگردوں نے انہیں ایک شفیق استاد اور ایک عظیم انسان قرار دیا جو تعلیمی میدان میں اپنی جدوجہد کے لیے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
فی الحال اس واقعے کے بعد برطانیہ بھر میں میڈیا کے کردار پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا صحافت کی آزادی کے نام پر کسی کی کردار کشی کرنا اخلاقی طور پر درست ہے۔ عوامی حلقوں کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کس طرح میڈیا کی مہمات نے ایک ذہین پروفیسر کی زندگی کے آخری ایام کو انتہائی مشکل بنا دیا تھا۔ یہ احتجاج نہ صرف جیسن آرڈے کے لیے ایک خراج تحسین ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی آواز بھی ہے جو میڈیا کے ہاتھوں ہونے والے استحصال کے خلاف لڑ رہے ہیں۔