LIVE
Loading Breaking News...

ہینلیئس اور سینڈوز کا بائیو سمیلر ادویات کے لیے بڑا معاہدہ

News Image
بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی ہینلیئس اور سینڈوز نے عالمی سطح پر بائیو سمیلر ادویات کے فروغ کے لیے ایک اہم تجارتی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ یہ شراکت داری دس مختلف مانوک لونل اینٹی باڈی اور اینٹی باڈی ڈرگ کونجوگیٹ اثاثوں کی تیاری پر محیط ہو گی۔
عالمی فارماسیوٹیکل صنعت میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر، معروف بائیو فارماسیوٹیکل کمپنی ہینلیئس (Henlius) اور معروف عالمی کمپنی سینڈوز (Sandoz) نے بائیو سمیلر ادویات کے شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرنے کے لیے ایک اسٹریٹجک تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر جدید طبی سہولیات اور کفایت شعار ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے، جس کے ذریعے مریضوں کو پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے زیادہ قابل رسائی اور معیاری ادویات فراہم کی جا سکیں گی۔ اس شراکت داری کے تحت، دونوں کمپنیاں دس ممکنہ مانوک لونل اینٹی باڈی (mAb) اور اینٹی باڈی ڈرگ کونجوگیٹ (ADC) بائیو سمیلر اثاثوں پر مل کر کام کریں گی۔ ذرائع کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر منصوبے فی الحال ترقی کے ابتدائی مراحل میں ہیں، جنہیں دونوں کمپنیوں کی تکنیکی مہارت اور تحقیقی وسائل کی مدد سے تیزی سے کلینیکل مراحل تک پہنچایا جائے گا۔ یہ اشتراک نہ صرف نئی ادویات کی تحقیق میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ بائیو سمیلر مارکیٹ میں دونوں کمپنیوں کی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا۔ ابتدائی انتظامات کی بنیاد پر، اس معاہدے سے ہونے والی کل آمدنی اور سرمایہ کاری کا تخمینہ ایک بڑی مالیاتی مالیت کے طور پر لگایا گیا ہے، جو فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں ایک بڑے اقدام کی عکاسی کرتا ہے۔ سینڈوز کی عالمی مارکیٹ تک رسائی اور ہینلیئس کی تحقیق و ترقی میں مہارت اس منصوبے کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتحاد کینسر اور دیگر سنگین بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی مہنگی ادویات کے متبادل اور سستے بائیو سمیلر ورژن لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ آنے والے وقتوں میں، یہ دونوں ادارے مشترکہ طور پر ریگولیٹری تقاضوں کو پورا کرنے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک میں ان ادویات کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے کوشاں رہیں گے۔ اس تعاون کو بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف صحت کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی بلکہ عام مریضوں کو جدید علاج کے لیے کم قیمت ادویات تک رسائی حاصل ہوگی۔ کمپنی انتظامیہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یہ شراکت داری مستقبل میں مزید طبی اختراعات کی راہ ہموار کرے گی۔