LIVE
Loading Breaking News...

سوات میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن، پولیس اہلکار شہید

News Image
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل کبال کے علاقے شلخو سر میں دہشت گردوں کے خلاف جاری سکیورٹی آپریشن کے دوران ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار جام شہادت نوش کر گیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے اور دہشت گردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں سوات کی تحصیل کبال کے علاقے شلخو سر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ایک بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ پولیس ترجمان ناصر اقبال کریمی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ایلیٹ فورس کا ایک جوان گل فام بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی کاؤنٹر ٹیرزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سوات پولیس اور اپر سوات پولیس کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں لائی جا رہی ہے، جس کی نگرانی مالاکنڈ کے ریجنل پولیس آفیسر اور سوات و اپر سوات کے ڈسٹرکٹ پولیس افسران (ڈی پی اوز) خود کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو شلخو سر کے ایک محدود علاقے میں گھیر رکھا ہے اور اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے اس تبادلے میں دہشت گردوں کو بھی بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور فرار کے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب سوات کے ڈی پی او عمر خان نے میڈیا کو جاری اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ سوات پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے علاقے میں امن و امان کی بحالی اور اس کے استحکام کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ کسی کو بھی سوات کے پرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے حصول کے لیے پولیس کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے سوات کی تحصیلوں کبال اور مٹہ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جبکہ مجموعی طور پر خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی اداروں کا عزم ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک اس قسم کے آپریشنز بلاتفریق جاری رہیں گے تاکہ خطے میں مستقل امن یقینی بنایا جا سکے۔