LIVE
Loading Breaking News...

بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے رجحانات اور چیلنجز

News Image
سینٹرم بروکن کے جگنیش ڈیسائی کے مطابق بھارت گزشتہ بارہ ماہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل ہے۔ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے خام تیل کی گرتی قیمتوں اور کمپنی نتائج میں بہتری کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (FII) کی دلچسپی اور ان کی سرمایہ کاری کا بہاؤ گزشتہ بارہ ماہ سے ایک اہم بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سینٹرم بروکن کے ماہر جگنیش ڈیسائی کے مطابق بھارت عالمی منڈیوں میں سرمایہ کاروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے سخت مسابقت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے عالمی معاشی حالات اور مقامی پالیسیوں کے درمیان توازن بہت ضروری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی سرمایہ کار بھارت کو ایک ابھرتی ہوئی منڈی کے طور پر تو دیکھتے ہیں، لیکن سرمایہ کاری کے بڑے فیصلوں کے لیے انہیں مخصوص معاشی اشاریوں میں بہتری درکار ہے۔ جگنیش ڈیسائی کے تجزیے کے مطابق بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے چند کلیدی اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی سب سے اہم ہے کیونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ صرف درآمدی بل کو کم کرتا ہے بلکہ تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی روپے کی قدر میں استحکام بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے ایک کلیدی عنصر ہے، کیونکہ کرنسی کی گراوٹ سرمایہ کاروں کے منافع کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر کی کارکردگی پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ڈیسائی کا کہنا ہے کہ مسلسل دو سہ ماہیوں تک کمپنی کی آمدنی میں بہتری اور نتائج میں کسی قسم کی تنزلی نہ ہونا سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے۔ اگر کمپنیاں اپنی توقعات کے مطابق نتائج پیش کرتی رہیں تو عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ مزید بہتر ہوگی۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مذکورہ بالا عوامل (خام تیل، روپیہ اور کمپنی نتائج) سازگار رہتے ہیں تو آنے والے دنوں میں بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، بھارتی معیشت کو اپنی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بیرونی اور اندرونی دونوں طرح کے دباؤ کو حکمت عملی سے نمٹنا ہوگا۔