LIVE
Loading Breaking News...

یورپی بینکوں میں ٹرمپ کی ریگولیٹری نرمی کا اثر اور تجزیہ

News Image
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں بینکنگ ضوابط میں نرمی کے اعلانات کے بعد یورپ کے مالیاتی اداروں میں بھی امید کی کرن پیدا ہو گئی ہے۔ یورپی بینکرز اب توقع کر رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ریگولیٹری دباؤ میں کمی آئے گی۔
امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ریگولیٹری ضوابط میں نرمی کی لہر اب بحر اوقیانوس کے پار یورپ تک پہنچ چکی ہے۔ فرانس کے معروف بینک سوسائٹی جنرل (Societe Generale) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلاومیر کروپا کے میز پر موجود ایک مقناطیسی تختی جس پر 'بیسل اینڈ گیم کو روکو' لکھا ہے، اس بات کی عکاس ہے کہ یورپی بینکرز کس حد تک سخت بین الاقوامی مالیاتی ضوابط سے تنگ آ چکے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں بینکنگ سیکٹر پر عائد سختیوں کو کم کرنے کے وعدے نے یورپی بینکوں کو بھی ایک نئی امید دی ہے کہ اب عالمی سطح پر بینکنگ قوانین میں نرمی کی جائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے بینکوں پر برسوں سے 'بیسل 3' (Basel III) اور دیگر سخت مالیاتی ضوابط کا بوجھ ہے، جس کی وجہ سے ان کی منافع کمانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ امریکی ریگولیٹری نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کے بعد یورپی بینکوں کے سربراہان اب یورپی یونین کے ریگولیٹرز پر دباؤ ڈالنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ وہ بھی اپنے سخت ضوابط پر نظر ثانی کریں۔ بینکوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کی کاروباری دوستانہ پالیسیاں عالمی مالیاتی منظرنامے کو تبدیل کر دیں گی، جس سے بینکوں کے لیے قرضے فراہم کرنا اور سرمایہ کاری کرنا آسان ہو جائے گا۔ اگرچہ یورپ میں ریگولیٹری نظام امریکہ سے مختلف ہے، لیکن سرمایہ کاروں اور بینکاری ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی ماحول میں تبدیلی بڑے مالیاتی اداروں کے لیے ریگولیٹری دباؤ سے نجات کا بہترین موقع ہے۔ سوسائٹی جنرل جیسے بڑے بینک اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر بینکوں کو درپیش سخت سرمائے کے تقاضوں میں کمی لائی جائے تاکہ وہ اپنی معاشی ترقی کو برقرار رکھ سکیں۔ تاہم، ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریگولیٹری نرمی سے مالیاتی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس پر یورپی سینٹرل بینک اور دیگر نگران ادارے گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یورپی یونین کے ریگولیٹرز امریکہ کی تقلید کرتے ہوئے اپنے قوانین میں نرمی لاتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال، یورپی بینکنگ سیکٹر کے لیے یہ ایک امید افزا دور ہے جہاں انہیں ریگولیٹری بوجھ کم ہونے اور منافع میں اضافے کی توقع ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ اگر یورپ نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو بینکنگ سیکٹر میں ایک نئی لہر دوڑ سکتی ہے جو یورپی معیشت کی بحالی میں مددگار ثابت ہوگی۔