Technology
فلک سیفٹی ٹیکنالوجی کیا ہے اور اس سے شہریوں کی پرائیویسی کو کیا خطرات ہیں؟
فلک سیفٹی کمپنی کی جانب سے تیار کردہ آٹومیٹڈ لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPR) ٹیکنالوجی پر نجی آزادی اور غیر قانونی نگرانی کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ جدید کیمرہ سسٹم بغیر کسی وارنٹ کے شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کا باعث بن رہے ہیں۔
حال ہی میں فلک سیفٹی نامی کمپنی کی آٹومیٹڈ لائسنس پلیٹ ریڈرز (ALPR) ٹیکنالوجی دنیا بھر میں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد جرائم کی روک تھام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم نجی زندگی میں دخل اندازی اور بغیر وارنٹ نگرانی کے لیے ایک خطرناک ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی وجہ سے شہریوں کی گاڑیوں کی نقل و حرکت کا ڈیٹا بڑے پیمانے پر جمع کیا جا رہا ہے، جس پر سول سوسائٹی کے ارکان نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات کا اندازہ اورورا، کولوراڈو میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے، جہاں پولیس نے غلط شناخت کی بنیاد پر ایک خاتون اور چار کم عمر بچیوں کو اسلحے کے زور پر سڑک پر لیٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ اے ایل پی آر ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کردہ معلومات ہمیشہ درست نہیں ہوتیں اور اس کے غلط استعمال سے عام شہریوں کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جب ٹیکنالوجی کے ذریعے غلط ڈیٹا فراہم کیا جاتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ردعمل بعض اوقات غیر معمولی اور پرتشدد ہو سکتا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
فلک سیفٹی کے کیمرے عام طور پر سڑکوں، چوراہوں اور رہائشی علاقوں میں نصب کیے جاتے ہیں جو ہر گزرنے والی گاڑی کی لائسنس پلیٹ کو فوری طور پر اسکین کرتے ہیں اور اسے ایک مرکزی ڈیٹا بیس سے چیک کرتے ہیں۔ اگرچہ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف سنگین جرائم کو پکڑنے کے لیے بنائی گئی ہے، لیکن انسانی حقوق کے گروپس کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نگرانی کی ایک وسیع جال بچھانے کے مترادف ہے جس کا کوئی واضح قانونی دائرہ کار نہیں ہے۔ یہ مسلسل نگرانی شہریوں کے اندر ایک غیر محفوظ ماحول پیدا کر رہی ہے اور ان کی آزادیِ نقل و حرکت کو متاثر کر رہی ہے۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ عوامی تحفظ کے نام پر ذاتی آزادی کو سلب نہ کیا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس ڈیٹا کے استعمال پر شفاف چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں ہوگا، تب تک یہ ٹیکنالوجی نہ صرف پولیس کے لیے تنازعات کا باعث بنی رہے گی بلکہ عام شہریوں کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی رہے گی۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ ایسی کمپنیوں کی نگرانی کے لیے سخت اصول وضع کریں تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ تو ملے مگر انسانی حقوق کا تحفظ ہر صورت برقرار رہے۔