LIVE
Loading Breaking News...

بھارت ٹیلی کام سیکٹر میں خود انحصاری کے لیے پالیسی سپورٹ کا خواہاں

News Image
بھارتی تھنک ٹینک نیتی آیوگ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹیلی کام کے شعبے کو ملکی پیداوار بڑھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے فوری پالیسی حمایت درکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 5G اور ڈیجیٹل خدمات کے پھیلاؤ کے ساتھ یہ شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں اپنے حصے کو دوگنا کر سکتا ہے۔
بھارت کے معروف تھنک ٹینک 'نیتی آیوگ' نے ایک اہم پالیسی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ملک کے ٹیلی کام اور نیٹ ورک آلات کے شعبے کو اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر پالیسی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت فی الحال ٹیلی کام آلات کے لیے بڑی حد تک بیرونی درآمدات پر انحصار کرتا ہے، خاص طور پر چین سے ہونے والی درآمدات سپلائی چین کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ملکی سطح پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کے پاس ٹیلی کام کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک اہم مرکز بننے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ خاص طور پر 5G ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور ملک بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل خدمات کی مانگ اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک محرک کا کام کر رہی ہے۔ نیتی آیوگ کا تخمینہ ہے کہ اگر حکومت درست پالیسیاں تشکیل دے اور مقامی صنعت کاروں کو مراعات فراہم کرے، تو ٹیلی کام کا شعبہ نہ صرف ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اپنا حصہ دوگنا کر سکتا ہے بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس وقت بھارت کا ٹیلی کام سیکٹر اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے تحقیق اور ترقی (R&D) میں سرمایہ کاری کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔ عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر، یہ ضروری ہے کہ مقامی نیٹ ورک آلات کی تیاری کو خود کفیل بنایا جائے۔ نیتی آیوگ نے تجویز دی ہے کہ برآمدات پر توجہ مرکوز کرنے سے بھارتی کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں، جس سے تجارتی خسارے کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت اس شعبے میں سازگار ماحول فراہم کرتی ہے تو بھارت مستقبل قریب میں ٹیلی کام ٹیکنالوجی کے برآمد کنندگان کی صف میں شامل ہو سکتا ہے۔