World
ٹرمپ کا بڑا فیصلہ: جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں محدود، کم جونگ اُن کی تعریف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کو محدود کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پینٹاگون کو ہدایات جاری کی ہیں کہ جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ فوجی مشقوں کے حجم کو کم کیا جائے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کا اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر کیا، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا کے ساتھ امریکہ کے سفارتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے اور ٹرمپ انتظامیہ خطے میں کسی بڑی فوجی کشیدگی سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس فیصلے کے دوران صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے بارے میں انتہائی گرم جوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شخصیت اور قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ ان کے کم جونگ اُن کے ساتھ ذاتی تعلقات خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ رویہ اس بات کا عکاس ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ براہ راست بات چیت کے راستے کو بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں تاکہ طویل مدتی سکیورٹی خدشات کا حل نکالا جا سکے۔
دوسری جانب، جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقوں میں کمی کا فیصلہ کئی حلقوں میں تنقید کا شکار بھی ہو رہا ہے۔ کچھ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کی مشقیں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی دفاعی تیاری کے لیے ناگزیر ہیں اور ان میں کمی سے خطے میں دشمن قوتوں کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ یہ اقدام خطے میں استحکام پیدا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے اور اس کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ جاری کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں شمالی کوریا کی جانب سے دیے گئے سخت بیانات نے بھی عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ کے اس متنازعہ فیصلے کو اب عالمی سفارتی حلقوں میں انتہائی غور سے دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی ترجیحات کو تبدیل کرتے ہوئے عسکری طاقت کے بجائے سفارتی حل پر زیادہ توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہے۔