World
آسٹریلیا میں سوشل میڈیا بین: حکومت کا اہم فیصلہ اور چیلنجز
آسٹریلوی حکومت نے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے نوجوانوں کی رسائی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم انتھونی البانی کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
آسٹریلیا میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف جاری حکومتی مہم اب ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم انتھونی البانی نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے رویے کو 'اشتعال انگیز' قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی آن لائن سیکیورٹی کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آسٹریلوی حکومت اب اس معاملے پر کافی عجلت میں دکھائی دیتی ہے اور پارلیمنٹ میں سخت قوانین متعارف کروانے کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس بات کا پابند بنانا ہے کہ وہ نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے ٹھوس اقدامات کریں یا پھر ملک میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے سنگین نتائج کا سامنا کریں۔
ماہرین کے مطابق، سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوانوں کی ذہنی صحت، نیند کے معمولات اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ حکومتی عہدیداران کا ماننا ہے کہ صرف انتباہ جاری کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ایسی قانون سازی کی ضرورت ہے جس کے تحت پلیٹ فارمز پر سخت چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم ہو سکے۔ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر اب حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ آیا سوشل میڈیا تک رسائی کی کم از کم عمر مقرر کی جائے یا اسے مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جائے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کے قوانین پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ اس سے ذاتی آزادی اور ڈیجیٹل معیشت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن اور اقدامات کے حوالے سے عوامی حلقوں میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ جہاں بہت سے والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے حکومتی فیصلے کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ حلقے اس بات پر تشویش کا شکار ہیں کہ کیا واقعی پابندیاں لگانے سے سوشل میڈیا کے مضر اثرات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں پابندیوں سے زیادہ شعور بیداری اور والدین کی نگرانی زیادہ کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ بہرحال، وزیر اعظم انتھونی البانی نے واضح کر دیا ہے کہ آسٹریلیا اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے اور جلد ہی ایک جامع فریم ورک کے ذریعے سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کیا جائے گا۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ سخت قوانین نوجوانوں کی آن لائن زندگی میں کس حد تک بہتری لاتے ہیں۔