LIVE
Loading Breaking News...

شی جن پنگ کی حکومتی پالیسیاں اور عالمی طرز حکمرانی

News Image
مقررین نے کہا ہے کہ شی جن پنگ کی پارٹی سازی کے نظریات عصری دور میں حکمرانی کے لیے ایک مثالی نمونہ فراہم کرتے ہیں۔ یہ خیالات ایک حالیہ کانفرنس کے دوران سامنے آئے جس میں چین اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
حال ہی میں منعقدہ ایک اہم سیمینار کے دوران ماہرین اور دانشوروں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ چین کے صدر شی جن پنگ کی 'پارٹی بلڈنگ' یعنی تنظیم سازی کی سوچ جدید طرز حکمرانی کے لیے ایک بہترین اور موثر سبق ہے۔ مقررین نے کہا کہ چین نے جس طرح اپنی داخلی تنظیموں اور سیاسی ڈھانچے کو منظم کیا ہے، اس کے اثرات نہ صرف چین کی معاشی ترقی پر مرتب ہوئے ہیں بلکہ یہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک نمونہ بن چکے ہیں۔ کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ شفافیت اور نظم و ضبط کے حامل ادارے ہی کسی بھی ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کے تناظر میں، مقررین نے پاک چین تزویراتی شراکت داری کو امن اور پیشرفت کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے ماہرین نے کہا کہ اب توجہ کنکریٹ کے انفراسٹرکچر سے ہٹ کر تجارت، لیتھیم اور فارماسیوٹیکل جیسے شعبوں کی جانب مرکوز ہو رہی ہے۔ یہ منتقلی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط کرے گی، کیونکہ چینی کمپنیاں پاکستان میں توانائی، دواسازی اور معدنیات کے شعبوں میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ مزید برآں، کانفرنس میں پاکستان اور چین کے درمیان 'آل ویدر سٹریٹیجک پارٹنرشپ' کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان چین کے حکومتی ماڈل اور صنعتی ترقی کے تجربات سے سیکھتا ہے تو ملک میں جاری معاشی مشکلات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ چین کی ترقی کا ماڈل اجتماعی محنت اور مضبوط ادارہ جاتی بنیادوں پر استوار ہے، جو کہ پاکستان کے لیے ایک قابل عمل سبق ہے۔ آخر میں، سیمینار کے شرکاء نے سی پیک کی کارکردگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل ہونے کے لیے خوش آئند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان عوام کی سطح پر بھی تعلقات کو مستحکم کیا جائے۔ شی جن پنگ کی قیادت میں چین کی جانب سے فراہم کی جانے والی یہ تکنیکی اور سیاسی رہنمائی پاکستان کے لیے طویل المدتی استحکام کا ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔