Politics
اے جے کے پولیس کا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات اور اسلحہ برآمدگی کا دعویٰ
آزاد کشمیر پولیس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے جدید اور خودکار امریکی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) پولیس نے بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران کالعدم قرار دی جانے والی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ تنظیم ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہی ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) خاور علی شوکت نے راولاکوٹ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا پرامن احتجاج کا بیانیہ زمینی حقائق سے بالکل مختلف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے اور اشتعال انگیزی کے واقعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کوئی عام پرامن تنظیم نہیں بلکہ اس کے پس پردہ خطرناک مقاصد پوشیدہ ہیں۔ایس ایس پی خاور علی شوکت نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ گزشتہ دو دنوں کے دوران مسلح گروہوں نے شہر کے مختلف مقامات پر سیکیورٹی اہلکاروں کو گھات لگا کر نشانہ بنایا اور ان پر جدید خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ ان پرتشدد کارروائیوں کے دوران ایک رینجرز اہلکار نے جام شہادت نوش کیا جبکہ تقریباً 15 پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فورسز پر بھاری اور جدید ہتھیاروں سے حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اس کالعدم گروپ کا مقصد آزاد کشمیر میں امن عامہ کو تباہ کرنا، سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانا اور بھائی چارے کے ماحول کو خراب کرنا ہے۔پولیس نے کارروائی کے دوران تشدد میں مبینہ طور پر ملوث کئی مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ ایس ایس پی کے مطابق گرفتار شدگان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، جس میں ایک خودکار امریکی ہتھیار بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے جدید ہتھیاروں کی برآمدگی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کالعدم تنظیم کسی بیرونی یا خفیہ ایجنڈے کے تحت سرگرم عمل ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے پولیس عہدیدار نے کہا کہ گروپ خود کو پرامن ظاہر کر کے سیکیورٹی فورسز پر الزام تراشی کر رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے بحران کے دوران انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور صرف اسی وقت جوابی کارروائی کی جب ان کی اپنی جانوں پر حملے کیے گئے۔واضح رہے کہ یہ کشیدگی راولاکوٹ اور میرپور میں ہونے والے پرتشدد جھڑپوں کے بعد پیدا ہوئی ہے، جہاں جے اے اے سی مہاجرین مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے پہلے بھی یہ مؤقف اپنایا جا چکا ہے کہ مظاہروں کے پیچھے وہ عناصر ہیں جو غیر ملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ دوسری جانب، ایکشن کمیٹی نے بھی اپنے حامیوں کے جانی نقصان کے دعوے کیے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر ان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔