Politics
سینیٹ کمیٹی کی سفارش: دو درجن وفاقی وزارتیں ختم کرنے کا مطالبہ
سینیٹ کی ایک کمیٹی نے اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبائی خودمختاری کا تقاضا کرتے ہوئے دو درجن سے زائد وفاقی وزارتیں ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ آئینی معاملات میں وفاقی کابینہ کی مداخلت آئین کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز اردو) سینیٹ کی ایک اہم قائمہ کمیٹی نے ملک میں انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور وسائل کے ضیاع کو روکنے کے لیے ایک بڑا مطالبہ سامنے رکھا ہے۔ کمیٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ دو درجن سے زائد وفاقی وزارتوں کو فوری طور پر ختم کر دیا جائے تاکہ صوبوں کو ان کے آئینی حقوق اور مکمل خود مختاری دی جا سکے۔ کمیٹی کے ارکان کا ماننا ہے کہ کئی وزارتیں ایسی ہیں جو اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ کے بعد وفاقی سطح پر غیر ضروری ہو چکی ہیں اور ان کے امور کو صوبائی حکومتوں کے سپرد کیا جانا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کے معاملات میں مبینہ مداخلت کی جا رہی ہے۔ کمیٹی کا موقف ہے کہ یہ مداخلت براہ راست آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی اداروں کے دائرہ کار کا احترام کیا جانا چاہیے تاکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ ملے اور کسی قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے۔
یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور سرکاری اخراجات میں کمی لانے کے لیے مختلف سطح پر تجاویز زیر غور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سینیٹ کمیٹی کی ان سفارشات پر سنجیدگی سے عملدرآمد کیا جائے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے پر بوجھ نمایاں طور پر کم ہوگا بلکہ حکومتی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔ تاہم، اس نوعیت کے بڑے انتظامی فیصلوں کے لیے سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔