LIVE
Loading Breaking News...

شمالی قبرص آئی وی ایف کلینک اسکینڈل: والدین کے ساتھ فراڈ کا انکشاف

News Image
شمالی قبرص کے ایک فرٹیلیٹی کلینک پر الزام ہے کہ انہوں نے والدین کو ان کے منتخب کردہ عطیہ کنندگان کے بجائے غلط اسپرم اور انڈے فراہم کیے۔ اس انکشاف کے بعد متعدد خاندانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
شمالی قبرص میں واقع ایک معروف آئی وی ایف (IVF) کلینک کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں عملے پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے والدین کو ان کے منتخب کردہ اسپرم اور انڈے کے عطیہ کنندگان (Donors) کے بارے میں گمراہ کیا۔ اس معاملے نے بین الاقوامی سطح پر طبی اخلاقیات اور تولیدی علاج کے طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں کی پیدائش کے لیے استعمال ہونے والا جینیاتی مواد وہ نہیں تھا جس کی انہوں نے اجازت دی تھی اور جس کے لیے انہوں نے باقاعدہ معاہدے کیے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ متعدد بچوں کا تعلق ایسے عطیہ کنندگان سے ہے جن کا انتخاب والدین نے کبھی نہیں کیا تھا۔ اس قسم کی بے قاعدگی نہ صرف اخلاقی طور پر ایک بڑا جرم ہے بلکہ اس سے متاثرہ خاندانوں کی زندگیوں پر گہرے نفسیاتی اور سماجی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ والدین کا ماننا ہے کہ کلینک انتظامیہ نے منافع کمانے یا سہولت کے لیے جان بوجھ کر جینیاتی ڈیٹا کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی، جس نے ان کی خاندانی ساخت اور مستقبل کے فیصلوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد مقامی حکام اور طبی ریگولیٹرز پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کریں۔ بہت سے متاثرہ خاندان اب قانونی چارہ جوئی کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ان ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جا سکے جنہوں نے والدین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ آئی وی ایف کے شعبے میں اس طرح کے فراڈ انتہائی خطرناک ہیں کیونکہ یہ انسانی نسل اور جینیاتی شناخت سے جڑے ہوتے ہیں، جس کی غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ فی الحال، کلینک کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور متاثرہ والدین سے رابطے کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کتنے کیسز اس جعل سازی سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں آئی وی ایف کلینکس کے طریقہ کار کی نگرانی سخت کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا سدِ باب کیا جا سکے اور والدین کے اعتماد کو بحال رکھا جا سکے۔