World
جرمن پولیس کی انسانی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی
جرمن حکام نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف نئے قانون کے تحت پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے کشتیوں اور لائف جیکٹس کا خفیہ گودام پکڑ لیا ہے۔ اس آپریشن کا مقصد تارکین وطن کی غیر قانونی نقل و حمل میں استعمال ہونے والے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔
جرمنی کی سکیورٹی فورسز نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گینگز کے خلاف ملک گیر سطح پر ایک اہم کارروائی کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت اسمگلرز کے خفیہ گوداموں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ یہ کارروائی جرمنی میں حال ہی میں نافذ کیے گئے نئے سخت قوانین کا پہلا بڑا مظہر ہے۔ حکام کے مطابق، ایک خفیہ گودام سے بڑی تعداد میں ربڑ کی کشتیاں اور لائف جیکٹس برآمد کی گئی ہیں، جو بظاہر تارکین وطن کو سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کروانے کے لیے تیار رکھی گئی تھیں۔ یہ سامان انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے منظم جرائم کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
نئے قانون کے تحت جرمن حکام کو اسمگلنگ نیٹ ورکس کے اثاثے ضبط کرنے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن محض ایک شروعات ہے، اور حکومت ایسے تمام ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گی جہاں سے تارکین وطن کی سمگلنگ کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ پولیس تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ضبط شدہ کشتیاں ناقص معیار کی تھیں، جو کھلے سمندر میں کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسمگلر اپنی جیبیں بھرنے کے لیے انسانی جانوں کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
اس کارروائی کے نتیجے میں کئی مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جن کا تعلق بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ کے گروہوں سے بتایا جاتا ہے۔ جرمن وزیر داخلہ نے اس اقدام کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف اب زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور جرمنی کو ان غیر قانونی نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ اس آپریشن کے بعد سے یورپی سطح پر بھی تارکین وطن کے سمگلرز کے خلاف دباؤ بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔