World
ماسکو پر ڈرون حملہ: روس کے دارالحکومت میں شدید کشیدگی
روس کے دارالحکومت ماسکو اور اس کے مضافاتی علاقوں پر 620 ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی حملے کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
روس کے دارالحکومت ماسکو اور اس کے نواحی علاقوں پر ڈرونز کے ایک بڑے اور غیر معمولی حملے نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 620 ڈرونز کا استعمال کیا گیا، جو کہ حالیہ عرصے میں ماسکو پر ہونے والا سب سے بڑا فضائی حملہ ہے۔ اس اچانک اور شدید حملے کے نتیجے میں کئی افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ متعدد عمارتوں اور تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
ماسکو کے فضائی دفاعی نظام نے بڑی تعداد میں ان ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ڈرونز کی بھاری تعداد کے باعث کچھ کو اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جس سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے اور سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد روس اور یوکرین کے درمیان جاری تناؤ میں مزید شدت آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ڈرونز کا ایک ساتھ استعمال جدید جنگی حکمت عملی میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ فی الحال روسی وزارت دفاع کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بعد سخت ردعمل دیا جائے گا۔ دنیا بھر کی نظریں اب اس صورتحال پر جمی ہوئی ہیں کیونکہ یہ پیشرفت خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اس حملے کے باعث ماسکو کے ہوائی اڈوں پر پروازوں کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں درجنوں پروازیں منسوخ یا ری شیڈول کی گئی ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور جلد ہی متاثرہ علاقوں میں معمولات زندگی بحال کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ فی الوقت ترجیح زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنا اور مزید کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے دفاعی حصار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ عالمی برادری نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔