LIVE
Loading Breaking News...

روس اور جاپان کے درمیان جزائر کا تنازع شدت اختیار کر گیا

News Image
روسی وزارت خارجہ نے متنازع جزائر کے حوالے سے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر جاپان کے سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ ماسکو نے ٹوکیو کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کو دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
ماسکو اور ٹوکیو کے درمیان طویل عرصے سے جاری متنازع جزائر کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے بعد روسی وزارت خارجہ نے جاپانی سفیر کو طلب کر کے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان ان جزائر پر ملکیت کے دعووں کے باعث سفارتی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ جاپانی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدامات اور بیانات نہ صرف بین الاقوامی ضابطہ اخلاق کے منافی ہیں بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان برسوں پرانی سفارتی کوششوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ماسکو نے ٹوکیو پر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کے دفاع اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ حکام نے جاپانی سفیر کو تنبیہ کی کہ ان کے ملک کی جانب سے ان علاقوں میں غیر ضروری سرگرمیاں اور اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ روس کا موقف ہے کہ یہ جزائر اس کی تاریخ اور جغرافیائی حدود کا اٹوٹ حصہ ہیں اور اس پر کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب ٹوکیو نے ابھی تک اس سفارتی طلب پر کوئی حتمی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم جاپانی حکام ماضی میں مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ یہ جزائر ان کے شمالی علاقوں کا حصہ ہیں اور ان پر روس کا قبضہ غیر قانونی ہے۔ اس تنازع نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی و سیاسی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر دونوں فریقین نے جلد سفارتی مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو مستقبل میں خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ موجود ہے۔ واضح رہے کہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے یہ جزائر روس اور جاپان کے درمیان امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک اب تک باضابطہ طور پر جنگ کے خاتمے کا معاہدہ نہیں کر سکے ہیں، اور جزائر کی ملکیت کا تنازع اس پورے خطے میں ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے۔ عالمی برادری بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس تنازع کا اثر براہ راست ایشیا پیسیفک کے خطے کی سیکیورٹی پر پڑتا ہے۔