LIVE
Loading Breaking News...

جاپان زلزلہ: کماموٹو میں 7.1 شدت کا زلزلہ، ہلاکتیں 13 ہو گئیں

News Image
جاپان کے جنوبی علاقے میں 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں عمارتیں گرنے اور شاپنگ مال میں دھماکے کے نتیجے میں اب تک 13 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے ریسکیو آپریشن کو وقت کے خلاف جنگ قرار دیتے ہوئے تمام وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے۔
جاپان کے جنوبی علاقے میں منگل کے روز آنے والے 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے بعد امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات سرگرم ہیں۔ اس خوفناک زلزلے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں گھر بجلی سے محروم اور علاقے کی اہم سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ کماموٹو شہر کے قریب واقع ایک بڑے شاپنگ مال کا ایک حصہ زلزلے کے بعد ہونے والے مبینہ دھماکے سے منہدم ہو گیا تھا، جہاں سے ریسکیو اہلکاروں نے آٹھ افراد کو ملبے سے نکالا جن میں سے تین زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ شاپنگ مال کی انتظامیہ کے مطابق عمارت کے عملے کے چند افراد تاحپال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ جاپانی وزیر اعظم ثانائے تاکائچی نے ٹوکیو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بہت سے لوگ امداد کے منتظر ہیں اور یہ وقت کے خلاف ایک جنگ ہے۔ حکومت زیادہ سے زیادہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے زمینی سطح پر تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا شاپنگ مال میں ہونے والا دھماکہ گیس سلنڈر یا گیس لائن لیکیج کی وجہ سے ہوا تھا، کیونکہ ریسکیو اہلکاروں نے عمارت کے اندر گیس کی بو محسوس کی تھی۔ اس کے علاوہ، کاغذی مصنوعات تیار کرنے والی ایک فیکٹری کی چمنی گرنے سے سات افراد لاپتہ جبکہ چار شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ ملک کے مختلف اسپتالوں میں زلزلے میں زخمی ہونے والے دجنوں افراد کا علاج جاری ہے جبکہ متاثرہ پریفیکچر میں تقریباً دو لاکھ ساٹھ ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ زلزلے کا مرکز کماموٹو شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں تھا جہاں کئی مکانات کی چھتیں گر گئیں اور سڑکوں پر بڑی بڑی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ دریائے کماگوا پر بنا ایک پل بھی زلزلے کے جھٹکوں کی تاب نہ لاتے ہوئے بیٹھ گیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے ایک ہفتے کے دوران شدید جھٹکے اور لینڈ سلائڈنگ کے خطرات برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ شدید گرمی اور 36 ہزار سے زائد گھروں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سونی، ہنڈڈا اور ٹویوٹا سمیت کئی اہم صنعتی اداروں نے حفاظتی اقدامات کے تحت اپنی فیکٹریوں میں عارضی طور پر پیداوار معطل کر دی ہے۔ جاپان جو کہ پیسیفک 'رنگ آف فائر' پر واقع ہے، دنیا کے شدید ترین زلزلوں کا سامنا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور یہاں اس سے قبل بھی شدید زلزلے بڑے پیمانے پر تباہی مچا چکے ہیں۔