Technology
پی بی ایس کا تاریخی ریکارڈ کلاؤڈ کمپنی کے ساتھ تنازع کی نذر
امریکی نشریاتی ادارے نائن پی بی ایس کو کلاؤڈ اسٹوریج کے تنازع کے باعث 70 سالہ تاریخی فوٹیج کھونے کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ ادارہ اپنے قیمتی ڈیٹا کی بازیابی کے لیے قانونی چارہ جوئی کر رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے 'نائن پی بی ایس' (Nine PBS) کو اپنے ستر سالہ تاریخی ریکارڈ کے ضائع ہونے کا شدید خطرہ درپیش ہے۔ سینٹ لوئیس میں قائم اس عوامی نشریاتی ادارے کے مطابق، تقریباً 50 ٹیرا بائٹس پر مشتمل ڈیٹا کلاؤڈ اسٹوریج فراہم کرنے والی ایک وینڈر کمپنی کے ساتھ قانونی تنازع کی زد میں آ گیا ہے۔ یہ ڈیٹا اس ادارے کی دہائیوں پر محیط نشریاتی خدمات، دستاویزی فلموں اور اہم تاریخی واقعات پر مشتمل ہے جو اب ایک تکنیکی اور قانونی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
اس معاملے کی تفصیلات کے مطابق، نائن پی بی ایس نے کلاؤڈ اسٹوریج وینڈر کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔ ادارے کا موقف ہے کہ کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے ساتھ معاملات خراب ہونے کے بعد ان کی برسوں پرانی یادیں اور تاریخی مواد تک رسائی بند ہو گئی ہے۔ تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ 50 ٹیرا بائٹس ڈیٹا کا ضائع ہونا کسی بھی میڈیا ادارے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف تکنیکی محنت شامل ہوتی ہے بلکہ یہ مواد قومی ثقافتی ورثے کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ کیس کلاؤڈ اسٹوریج کے دور میں اداروں کی انحصار پسندی پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ اگرچہ کلاؤڈ سروسز ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کا جدید ترین ذریعہ سمجھی جاتی ہیں، لیکن وینڈرز کے ساتھ کاروباری تنازعات یا سروس کے تعطل کی صورت میں ڈیٹا کا مکمل طور پر دسترس سے باہر ہو جانا ایک بڑا تکنیکی رسک ہے۔ نائن پی بی ایس فی الحال اس کوشش میں ہے کہ عدالت کے ذریعے اپنے ڈیٹا کی فوری بازیابی کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ تاریخ کے یہ اہم گوشے محفوظ رہ سکیں۔
یہ واقعہ دنیا بھر کے میڈیا ہاؤسز اور آرکائیوز رکھنے والے اداروں کے لیے ایک انتباہ بھی ہے کہ وہ اپنے اہم ترین ڈیٹا کے بیک اپ کے لیے متبادل اور محفوظ طریقے اختیار کریں۔ فی الوقت نائن پی بی ایس کے وکلاء معاملے کو حل کرنے کے لیے قانونی اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ نشریاتی حلقوں میں اس کیس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ادارے کی انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی اس ڈیٹا تک رسائی بحال کر دی جائے گی تاکہ مستقبل میں اسے دوبارہ عوام کے سامنے لایا جا سکے۔