Business
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ کے روز سے کر دیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
حکومت نے منگل کے روز پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں میں بالترتیب 1.63 روپے اور 1.55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ خلیج فارس میں حالیہ کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ کے اثرات کو مقامی مارکیٹ تک منتقل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کے نفاذ کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 335.81 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 388.38 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں بدھ کے روز سے نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ حکومت کی جانب سے پٹرول پر عائد ٹیکسوں اور ڈیوٹیز کی شرح بدستور 110 روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ ڈیزل پر یہ ٹیکس 96 روپے فی لیٹر وصول کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری کشیدگی اور قیمتوں کے تناظر میں اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے کہ وہ بین الاقوامی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا فیصلہ کریں۔ تاہم، حکومت کے اس روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کے فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مسترد کر دیا ہے اور اس پر احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پٹرول کا استعمال بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں ہوتا ہے، جس کی قیمتوں میں تبدیلی براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتیں بھی عامتہ الناس پر اثر انداز ہوتی ہیں کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال کیا جاتا ہے۔ پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملک میں ریونیو کے بڑے ذرائع ہیں اور ان کی ماہانہ فروخت سات سے آٹھ لاکھ ٹن تک رہتی ہے۔