LIVE
Loading Breaking News...

سنگاپور کی سیاست: لی یی شیان اور ورکرز پارٹی میں معاشی پالیسی پر گرما گرم بحث

News Image
سنگاپور کے سابق سینئر وزیر مملکت لی یی شیان نے ورکرز پارٹی سے ان کے متبادل اقتصادی لائحہ عمل کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ بحث سنگاپور میں غیر ملکی کمپنیوں کے حوالے سے حکومتی پالیسی اور حزب اختلاف کے مؤقف پر مرکوز رہی۔
سنگاپور کے سابق سینئر وزیر مملکت لی یی شیان نے حال ہی میں حزب اختلاف کی ورکرز پارٹی (WP) کے اراکین کو ایک سخت تنقیدی بحث میں الجھاتے ہوئے ان سے ان کا 'متبادل اقتصادی لائحہ عمل' طلب کیا ہے۔ لی یی شیان کا ماننا ہے کہ ملک میں حالیہ معاشی ترقی کی تحریک اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ مؤقف مبہم ہے، جس پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سنگاپور جیسے چھوٹے ملک کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کی موجودگی معیشت کے استحکام اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ بحث کے دوران، سابق وزیر نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر حزب اختلاف کی جماعتیں غیر ملکی کمپنیوں کے بارے میں محتاط رویہ اپناتی ہیں تو اس کا طویل مدتی اثر سنگاپور کی عالمی مسابقتی پوزیشن پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ہمیشہ ایک ایسی پالیسی اپنائی ہے جس میں ملکی مفاد اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے، لیکن حزب اختلاف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی متبادل ٹھوس تجاویز سامنے نہیں آئیں۔ دوسری جانب، ورکرز پارٹی کے اراکین نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ مقامی آبادی کو ان کمپنیوں میں بہتر اور مساوی مواقع مل سکیں۔ انہوں نے دلیل دی کہ سنگاپور کی ترقی کا ماڈل اب ارتقائی مراحل میں ہے اور انہیں مقامی لیبر مارکیٹ کے تحفظ کے لیے کچھ سخت ضوابط کی ضرورت ہے۔ اراکین نے لی یی شیان کے سوالات کے جواب میں کہا کہ وہ ملک کی معاشی بہتری کے لیے اپنے تجاویز کا خاکہ جلد ہی مزید تفصیل سے پیش کریں گے۔ یہ بحث سنگاپور کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے جہاں معاشی ماڈل پر اب کھل کر اختلافِ رائے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں غیر ملکی کمپنیوں کا معاملہ ملکی سیاست میں ایک مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ عوامی سطح پر مقامی کارکنوں کے تحفظ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے درمیان توازن قائم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔