LIVE
Loading Breaking News...

کانگو میں ایبولا وائرس کی تباہ کاری، ہلاکتوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

News Image
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صحت عامہ کے حکام کے مطابق وائرس کو قابو کرنے کی کوششیں تاحال جاری ہیں۔
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس نے ایک خطرناک سنگِ میل عبور کر لیا ہے، اور اب یہ ملک کی تاریخ کا سب سے مہلک وبائی واقعہ بن چکا ہے۔ صحت عامہ کے حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، اس وائرس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2325 تک پہنچ گئی ہے، جس نے ملک کے طبی نظام اور امدادی ٹیموں کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس سے قبل ہونے والی تمام ایبولا کی وباؤں سے کہیں زیادہ ہے، جو اس وبائی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس وائرس کا پھیلاؤ ملک کے دور افتادہ علاقوں سے شروع ہوا تھا، جہاں طبی سہولیات کی شدید کمی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہ حالی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) اور مقامی طبی ٹیمیں گزشتہ کئی ماہ سے اس وائرس کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مقامی روایات، حفاظتی اقدامات سے گریز اور نقل و حرکت کی وجہ سے اس پر مکمل قابو پانا تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن مہمات بھی جاری ہیں لیکن سیکیورٹی خدشات اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ ایبولا کی یہ وبا نہ صرف انسانی زندگیوں کو نگل رہی ہے بلکہ یہ ملک کی معاشی اور سماجی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بڑھتا جا رہا ہے اور حفاظتی آلات کی کمیابی نے طبی عملے کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دی ہیں۔ عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جمہوریہ کانگو کو مزید امداد، جدید طبی آلات اور ویکسین کی فراہمی میں مدد دے تاکہ اس جان لیوا وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ حکومتی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے اور لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی مہمات کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں صورتحال کا مزید جائزہ لیا جائے گا تاکہ ان علاقوں کی نشاندہی کی جا سکے جہاں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ عوام سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی علامت کے ظاہر ہونے پر فوری طور پر قرنطینہ مراکز سے رابطہ کریں اور طبی عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔