LIVE
Loading Breaking News...

ٹائیگر گلوبل کی جانب سے ٹیک اسٹاکس میں بڑی تبدیلیاں اور نئی حکمت عملی

News Image
نامور سرمایہ کار فرم ٹائیگر گلوبل نے اپنی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیک پورٹ فولیو میں ردوبدل کرتے ہوئے کئی بڑی کمپنیوں کے حصص فروخت کر دیے۔ اس کے برعکس فرم نے اے ایم ڈی اور اسپیس ایکس میں نئی پوزیشنز لیتے ہوئے ان میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا ہے۔
دنیا کی معروف انویسٹمنٹ فرم ٹائیگر گلوبل نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران اپنے ٹیک پورٹ فولیو میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ فرم کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، ٹائیگر گلوبل نے ایلفابیٹ، اینویڈیا، مائیکروسافٹ، ایمازون، میٹا، براڈکوم اور ٹی ایس ایم سی سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اپنے حصص کی تعداد میں کمی کی ہے۔ اس کے علاوہ فرم نے نیٹ فلکس سے مکمل طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے، جو کہ عالمی مارکیٹ میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات اور بڑی ٹیک کمپنیوں کی ویلیو ایشن میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ ٹیک سیکٹر سے سرمایہ کاری نکالنے کے ساتھ ساتھ، ٹائیگر گلوبل نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے نئی کمپنیوں میں بھی سرمایہ کاری کا آغاز کیا ہے۔ فرم نے چپ میکر کمپنی اے ایم ڈی (AMD) اور ایلون مسک کی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) میں نئی پوزیشنز بنائی ہیں۔ اس اقدام کو مستقبل کی ٹیکنالوجی، خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور خلائی تحقیق کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے مواقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، فرم نے انٹیل میں اپنے حصص کی تعداد کو دوگنا کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری میں طویل مدتی امکانات پر بھروسہ رکھتی ہے۔ مارکیٹ ماہرین اس ردوبدل کو محتاط سرمایہ کاری کی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ جہاں بڑی ٹیک کمپنیاں، جو کہ گزشتہ برسوں سے مارکیٹ پر حاوی تھیں، اب کچھ سست روی کا شکار ہیں، وہیں سرمایہ کار اب ایسے سیکٹرز کی تلاش میں ہیں جہاں نمو کی گنجائش زیادہ ہے۔ ٹائیگر گلوبل کا اے ایم ڈی اور اسپیس ایکس کی جانب رخ کرنا اس بات کا غماز ہے کہ ادارہ جاتی سرمایہ کار اب ایسی کمپنیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ہارڈ ویئر اور نئی خلائی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والے وسیع تر ردوبدل کا حصہ ہیں۔ سرمایہ کاروں کو توقع ہے کہ آنے والی سہ ماہیوں میں بڑی ٹیک کمپنیوں کی کارکردگی کا موازنہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی فرموں کے ساتھ کیا جائے گا۔ ٹائیگر گلوبل کا یہ فیصلہ نہ صرف ان کے اپنے پورٹ فولیو کو متاثر کرے گا بلکہ مارکیٹ کے دیگر چھوٹے اور بڑے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ مستقبل کی حکمت عملی کیا ہونی چاہیے۔