LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی سے مذاکرات: حکومت کا مذاکرات کا موقف بدستور قائم

News Image
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ حکومتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے میں ہی ملک کا مفاد ہے۔
وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ملکی سیاسی بحرانوں کے حل اور باہمی تناؤ کو کم کرنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی مذاکرات کی پیشکش اب بھی میز پر موجود ہے اور حکومت ملک میں سیاسی استحکام کے لیے بات چیت کو واحد راستہ سمجھتی ہے۔ حکومتی نمائندوں، بشمول طارق فضل چوہدری، نے پارلیمنٹ اور میڈیا کے فورمز پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ عوامی مسائل پر توجہ مرکوز کی جا سکے۔ حکومتی موقف کے مطابق سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ انا کی جنگ سے باہر نکل کر قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ طارق فضل چوہدری نے اپنے حالیہ بیانات میں واضح کیا ہے کہ سیاسی حقوق اور احتجاج کا حق اپنی جگہ، لیکن یہ سب کچھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور امن و امان کی قیمت پر نہیں ہو سکتا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر اپوزیشن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو مذاکرات کے ذریعے سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے ملک میں معاشی استحکام کو بھی تقویت ملے گی۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے اس پیشکش پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم، حکومتی حلقوں کی جانب سے بار بار دی جانے والی یہ دعوت ظاہر کرتی ہے کہ موجودہ انتظامیہ کسی بھی قسم کے سیاسی تصادم کے بجائے پارلیمانی عمل کے ذریعے معاملات کو سلجھانے کی خواہش مند ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، اور ایسے میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ملک میں بہتری کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے گئے اور اپوزیشن اگر خلوصِ نیت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے تو حکومت اپنے دروازے کھلے رکھے گی۔ اب گیند اپوزیشن کے کورٹ میں ہے کہ آیا وہ اس پیشکش کو قبول کر کے ملک کو درپیش سیاسی تعطل کو ختم کرنے میں کردار ادا کرتی ہے یا نہیں۔ آنے والے چند دنوں میں اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ کیا سیاسی جماعتیں کسی متفقہ ایجنڈے پر متفق ہو پاتی ہیں یا کشیدگی کا یہ سلسلہ مزید طول پکڑے گا۔