World
البانیا میں ٹرمپ خاندان کے ہوٹل پراجیکٹ کے خلاف ماحولیاتی احتجاج
ماہرینِ ماحولیات اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ البانیا کے ساحلی علاقے میں ٹرمپ خاندان سے جڑے ایک بڑے ہوٹل پراجیکٹ کے ابتدائی کام نے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس متنازعہ منصوبے کے خلاف مقامی سطح پر مسلسل احتجاج جاری ہے جبکہ یورپی یونین نے بھی ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ماہرینِ ماحولیات اور سائنسدانوں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ البانیا کے ایک قدیم اور خوبصورت ساحلی علاقے میں ٹرمپ خاندان کے ساتھ جڑے ایک بڑے لگژری ہوٹل پراجیکٹ کے ابتدائی کام نے حیاتیاتی تنوع کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق، موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ مئی کے مہینے میں صرف پچیس دنوں کے دوران ایک روڈ صاف کیا گیا، پورے خطے میں درختوں کی کٹائی کی گئی اور نارٹا لگون کو سمندر سے ملانے والے چینل پر ایک پُل تعمیر کیا گیا۔ میرین بائیولوجسٹ اور این جی او ایکو البانیا کے سربراہ اولسی نیکا کا کہنا ہے کہ ساحلوں پر چلنے والے بلڈوزروں نے معدومیت کے خطرے سے دوچار لگرہید کچھووں کی افزائشِ نسل کی جگہوں کو پہلے ہی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ، ریتیلے تودوں کے درمیان راستے بنانے اور درختوں کے کٹنے سے پرندوں کی متعدد اقسام کے گھونسلے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ البانیا کے اس حساس ماحولیاتی علاقے میں فلیمنگو اور دیگر نایاب پرندے پائے جاتے ہیں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر سے وابستہ کمپنی کی جانب سے ایک پرتعیش ریزورٹ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس پانچ اعشاریہ ایک بلین ڈالر کے منصوبے کا اعلان سب سے پہلے 2024 میں کیا گیا تھا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران البانیا کے شہریوں کی جانب سے اس منصوبے کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں، اور جب چند ہفتے قبل اس کمپلیکس کی حدود کی نشاندہی کے لیے خاردار تاریں لگائی گئیں تو عوامی احتجاج میں مزید شدت آ گئی تھی۔ نجی سیکیورٹی گارڈز کی جانب سے ایک احتجاج کو دبانے کی کوشش نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا۔ دوسری طرف، وزیراعظم ایڈی راما کی حکومت اس منصوبے کا بھرپور دفاع کر رہی ہے اور اسے یورپ کا بہترین پراجیکٹ قرار دے رہی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس سے بین الاقوامی سرمایہ کاری راغب ہوگی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ تاہم، ٹیرانہ یونیورسٹی کے پروفیسر فرڈیننڈ بیگو کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے ہی اس ورثے کو جو نقصان پہنچا ہے وہ بڑی حد تک ناقابل تلافی ہے۔ جون کے وسط میں سائنسدانوں کے ایک گروپ نے بھی اس سائٹ کا دورہ کیا اور اپنی رپورٹ میں کچھووں کے گھونسلوں، پرندوں کے مسکنوں اور مقامی ساحلی تودوں کو پہنچنے والے نقصان کی تصدیق کی۔ اس متنازعہ پراجیکٹ پر کوسوار نژاد برطانوی پاپ اسٹار دعا لپا نے بھی مظاہرین کی حمایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، یورپی یونین نے بھی البانیا کی جانب سے ماحول اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ضوابط کو پورا کرنے میں ناکامی پر سخت نوٹس لیا ہے، اور ماحولیاتی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کی قدرتی سلامتی کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔