LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90 ڈالر سے تجاوز، امریکا-ایران کشیدگی میں اضافہ

News Image
امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث بانڈ یلڈز میں بھی نمایاں بہتری ہوئی ہے اور خطے میں سپلائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
عالمی سطح پر معاشی اور سیاسی کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان عارضی سیز فائر یا جنگ بندی کی مدت ختم ہو گئی۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں نے 90 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد کو عبور کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے، جس کے براہ راست اثرات عالمی توانائی کے ذخائر پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے عبوری معاہدے میں توسیع کو مسترد کرنے اور تنازع کو مزید بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ امریکی بانڈ یلڈز میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔ جب بھی جغرافیائی سیاسی بحران پیدا ہوتے ہیں، تو سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی جانب رخ کرتے ہیں، جس کا اثر بانڈ مارکیٹ پر براہ راست پڑتا ہے۔ آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی تیل کی نقل و حمل کا ایک اہم ترین راستہ ہے، وہاں ٹینکرز کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں تیل کی دستیابی کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عالمی معیشت میں افراطِ زر کا دباؤ بڑھ سکتا ہے جس کے اثرات ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف توانائی کے شعبے کے لیے چیلنج ہیں بلکہ یہ عالمی لاجسٹک اور مینوفیکچرنگ لاگت میں بھی اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ توانائی کے بحران کے خدشے کے پیشِ نظر عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی غیر یقینی کی فضا قائم ہے اور سرمایہ کار محتاط انداز اپنا رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوئی گنجائش باقی ہے یا یہ تنازع مزید شدت اختیار کر کے عالمی معیشت کے لیے بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔