World
یو ایس ایس ابراہم لنکن: بحری جہاز پر امریکی فوجیوں کی زندگی کیسی ہوتی ہے؟
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات عملے کی زندگی اور درپیش چیلنجز پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ جہاز دسمبر سے مسلسل سمندری مشن پر موجود ہے جس کے باعث عملے کو طویل تنہائی اور سخت حالات کا سامنا ہے۔
امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جنگی جہاز 'یو ایس ایس ابراہم لنکن' طویل عرصے سے کھلے سمندر میں موجود ہے، جس کی وجہ سے جہاز پر تعینات عملے کو درپیش حالات اور مشکلات پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ یہ جہاز 11 دسمبر سے مسلسل مشن پر ہے، جس کا مطلب ہے کہ ہزاروں فوجی اپنی فیملیز سے دور، سمندر کی لہروں کے درمیان ایک محدود اور مصنوعی ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بحری جہاز پر زندگی گزارنا کسی بھی عام فوجی تربیت سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ یہاں آپ 24 گھنٹے ایک دھاتی ڈھانچے کے اندر بند ہوتے ہیں جہاں ہر لمحہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے بڑے جنگی جہاز پر کام کا دورانیہ بہت سخت ہوتا ہے۔ عملے کو اپنی ڈیوٹی کے دوران نہ صرف تکنیکی مہارتوں کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے بلکہ شدید دباؤ کے تحت بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ جہاز پر جگہ کی تنگی، سورج کی روشنی تک محدود رسائی اور سمندر کے بیچوں بیچ تنہائی کا احساس فوجیوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ طویل عرصے تک ایک ہی جگہ پر رہنا اور مسلسل ایک جیسے معمولات پر عمل کرنا تھکن اور بوریت کا باعث بنتا ہے، جس پر اب امریکی بحریہ کے اندر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
جہاز پر زندگی کا ایک اہم پہلو 'کمیونٹی کا احساس' بھی ہے، جہاں فوجی ایک دوسرے کے ساتھ ہی کھاتے، سوتے اور کام کرتے ہیں۔ تاہم، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مشنز کی نوعیت کے پیش نظر، ان جہازوں پر تعیناتی کے دورانیے میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ طویل تعیناتیاں نہ صرف انفرادی طور پر فوجیوں کے لیے مشکل ہیں بلکہ ان کے اہل خانہ کے لیے بھی ذہنی کرب کا باعث بنتی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بحریہ کو اب اپنے اہلکاروں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ طویل سمندری سفر کے دوران ان کے حوصلے بلند رہ سکیں۔
اگرچہ یو ایس ایس ابراہم لنکن جیسے جہاز امریکی بحری طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان جہازوں کی کامیابی کا انحصار ان پر کام کرنے والے انسانوں کی کارکردگی پر ہوتا ہے۔ لہٰذا، جہاز کے ماحول کو بہتر بنانا اور عملے کی تھکن کو کم کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنا امریکی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ بحریہ اپنی آپریشنل ضروریات اور عملے کی انسانی ضروریات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتی ہے۔