Technology
آواز سے چلنے والی جدید ٹیکنالوجی: سوئس سائنسدانوں کی بڑی کامیابی
سوئٹزرلینڈ کے انجینئرز نے آواز کی لہروں کے ذریعے حرکت کرنے والے منفرد مائیکرو ڈرونز اور کشتیاں تیار کر لی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ہیلم ہولٹز ریزوننس کے اصول کو استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی مکینیکل پرزے کے پروپلشن پیدا کرتی ہے۔
سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے انجینئرز نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کرتے ہوئے ایسے چھوٹے ڈرونز اور کشتیاں تیار کی ہیں جو روایتی ایندھن یا بیٹری کے بجائے آواز کی لہروں (Sound Waves) سے حرکت کرتی ہیں۔ یہ ایجاد مائیکرو روبوٹکس کے میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ محققین نے اس سسٹم کو چلانے کے لیے 40 کلو ہرٹز کی الٹراساؤنڈ لہروں کا استعمال کیا ہے، جو انسانی کانوں کے لیے ناقابل سماعت ہیں، لیکن یہ ڈرونز کو حرکت دینے کے لیے کافی توانائی فراہم کرتی ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کے مکینیکل پرزوں، جیسے کہ انجن، موٹرز یا پروپیلرز کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے بجائے، ماہرین نے تھری ڈی پرنٹنگ کے ذریعے بنائے گئے مخصوص 'ریزونیٹرز' (Resonators) کا استعمال کیا ہے جو ہیلم ہولٹز ریزوننس (Helmholtz resonance) کے اصول پر کام کرتے ہیں۔ جب ان ریزونیٹرز پر الٹراساؤنڈ لہریں ڈالی جاتی ہیں تو یہ ہوا میں ارتعاش پیدا کر کے دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے ڈرون یا چھوٹی کشتی کو آگے بڑھنے کے لیے ضروری تھرسٹ (Thrust) مل جاتا ہے۔
یہ جدید آلات انتہائی مہارت کے ساتھ ہوا اور پانی میں حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کا سائز بہت چھوٹا ہے، لیکن ان کی کارکردگی اور کنٹرول حیران کن ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا مستقبل بہت روشن ہے، خاص طور پر طبی شعبے میں جہاں انسانی جسم کے اندر باریک آلات بھیجنے کے لیے ایسے پرزہ جات سے پاک روبوٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، خطرناک مقامات کی جانچ پڑتال کے لیے بھی ان چھوٹے ڈرونز کا استعمال کیا جا سکے گا۔
اس تحقیق کا ایک اور اہم پہلو اس کا ماحول دوست ہونا ہے، کیونکہ اس میں کسی کیمیکل ایندھن کا استعمال نہیں ہوتا۔ سوئس محققین کی یہ ٹیم اب اس بات پر کام کر رہی ہے کہ ان آلات کو مزید کس طرح چھوٹے اور طاقتور بنایا جائے تاکہ انہیں پیچیدہ مشنوں کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ یہ ایجاد ثابت کرتی ہے کہ آواز جیسی قدرتی لہروں کو توانائی کے ایک متبادل اور مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کرنا مستقبل کے انجینئرنگ کے چیلنجوں کا بہترین حل ثابت ہو سکتا ہے۔