Urban Planning
کراچی ریلوے منصوبے، تجاوزات کے خلاف آپریشن اور غریب شہریوں کی بحالی
کراچی میں ایم ایل ون اور کے سی آر جیسے بڑے ریلوے منصوبوں کے لیے کچی آبادیوں کی مسماری سے ہزاروں کم آمدنی والے خاندان متاثر ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف انہدام مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ متاثرہ آبادی کی مناسب بحالی اصل کامیابی کا پیمانہ ہے۔
کراچی میں پاکستان ریلوے کے مین لائن ون (ایم ایل ون) اور کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کی جدید کاری کے منصوبے خطے کی معاشی ترقی اور بہتر نقل و حمل کے وعدے کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، ان بڑے پیمانے کے ترقیاتی منصوبوں کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ انجینئرنگ کے علاوہ اس شہر کے عام باسیوں کی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ریلوے کوریڈورز کے ساتھ دہائیوں سے آباد بستیوں کی صفائی اور تجاوزات کے خاتمے کے نام پر بڑے پیمانے پر بے دخلی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ان کارروائیوں کا مقصد سرکاری زمین کو واگزار کرانا اور پبلک انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا ہے، لیکن اس عمل میں سب سے اہم نکتہ یعنی بے گھر ہونے والے غریب خاندانوں کی بحالی پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
کراچی میں غیر رسمی بستیوں یا کچی آبادیوں کی تاریخ بہت طویل ہے اور شہر کی تقریباً باسٹھ فیصد آبادی کسی نہ کسی شکل میں ان ہی بستیوں میں زندگی بسر کرتی ہے۔ غریب آباد، پی آئی ڈی سی، کشمیر کالونی، کالا پل اور موریا خان گوٹھ سمیت کئی گھنی آبادی والے علاقے اس کوریڈور کی زد میں ہیں۔ یہ بستیاں راتوں رات وجود میں نہیں آئیں بلکہ دہائیوں کے دوران سرکاری سطح پر سستے رہائشی منصوبے فراہم کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں پروان چڑھی ہیں۔ جب حکومت کم آمدنی والے طبقے کے لیے رہائش کا بندوبست کرنے میں ناکام رہی تو شہریوں نے مجبوراََ غیر رسمی مارکیٹوں کا سہارا لیا۔ اب جب ان علاقوں میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا جا رہا ہے تو یہ سوال شدت کے ساتھ اٹھ رہا ہے کہ کیا صرف عمارتوں اور گھروں کو مسمار کرنے سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا؟
ماہرینِ شہری امور کا ماننا ہے کہ انہدام سے صرف مسئلے کی ظاہری شکل ختم ہوتی ہے لیکن بنیادی وجوہات اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں۔ ملک کے آئین کے مطابق شہریوں کو بنیادی سہولیات اور چھت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر ماضی کی تمام ہاؤسنگ پالیسیاں اس مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ شہری منصوبہ بندی صرف تکنیکی قانونی یا غیر قانونی بحث تک محدود نہ رہے بلکہ اس میں انسانی ہمدردی اور سماجی انصاف کو بھی ترجیح دی جائے۔ اورنگی نالہ، محمود آباد اور گجر نالہ کے بعد اب ریلوے لائن کے اطراف رہنے والے مکینوں کو بھی اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منصوبوں کی شروعات سے قبل ایک شفاف اور جامع بحالی کا منصوبہ بنایا جائے تاکہ ترقی کے اس عمل میں غریب ترین طبقے کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔