Technology
امریکہ میں ڈرون درآمدات پر بھاری ڈیوٹی کا نفاذ: نئی پالیسی کی تفصیلات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملکی دفاع اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے غیر ملکی ڈرونز پر 100 فیصد تک ٹیکس لگانے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی ڈرون صنعت کو فروغ دینا ہے، تاہم جاپان کے لیے ریلیف کے اقدامات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 اگست 2026 کو ایک اہم حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے ڈرونز اور ان کے متعلقہ پرزہ جات پر 100 فیصد تک ٹیرف (کسٹم ڈیوٹی) عائد کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور ڈرون ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملکی سپلائی چین کو خود مختار بنانا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ شیٹ کے مطابق، یہ فیصلہ امریکی ڈرون انڈسٹری کو غیر ملکی مسابقت سے بچانے اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک کوشش ہے۔
اس نئی تجارتی پالیسی کے تحت، ان تمام ممالک سے آنے والے ڈرونز پر بھاری ٹیکس لاگو ہوں گے جو امریکہ کی مقامی صنعت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی اب دفاعی اور تجارتی لحاظ سے انتہائی حساس شعبہ بن چکی ہے، اس لیے بیرونی انحصار کو کم کرنا ناگزیر ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف مقامی مینوفیکچررز کو فروغ ملے گا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کی امریکی سرزمین پر تیاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پالیسی عالمی ڈرون مارکیٹ میں امریکہ کا اثر و رسوخ بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
تاہم، اس سخت پالیسی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے انتظامیہ نے کچھ اہم اقدامات بھی کیے ہیں۔ خاص طور پر جاپان جیسے اتحادی ممالک کے لیے ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ امریکہ اور جاپان کے درمیان تجارتی تعلقات متاثر نہ ہوں۔ جاپانی مصنوعات کے لیے ٹیرف کی شرح میں خصوصی چھوٹ دی جائے گی، جس سے جاپانی کمپنیوں کو امریکی مارکیٹ میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا موقع ملے گا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ توازن اسٹریٹجک پارٹنرز کے ساتھ تعاون اور قومی مفادات کے تحفظ کے درمیان ایک بہترین سمجھوتہ ہے۔
اس فیصلے کے نفاذ کے بعد عالمی منڈی میں ڈرونز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ سپلائی چین میں تبدیلیوں کے نتیجے میں لاگت کا بوجھ صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔ امریکی حکومت کا موقف ہے کہ یہ ایک وقتی قربانی ہے جو طویل مدتی معاشی اور دفاعی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ دیگر ممالک اس پالیسی پر کیا ردعمل دیتے ہیں اور آیا یہ اقدام ڈرون ٹیکنالوجی کی عالمی تجارت میں کس حد تک بڑی تبدیلی لاتا ہے۔