LIVE
Loading Breaking News...

سی پیک فیز 2: پاکستان اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں نیا موڑ

News Image
پاکستان اور چین کے مابین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں اب توجہ کنکریٹ اور سڑکوں کی تعمیر کے بجائے تجارتی، صنعتی اور تکنیکی شعبوں پر مرکوز کی جا رہی ہے۔ اس نئے دور میں لیتھیم اور فارماسیوٹیکل سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پاکستان اور چین کے مابین جاری اقتصادی راہداری (سی پیک) اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا بنیادی مقصد روایتی انفراسٹرکچر اور کنکریٹ کی تعمیرات سے ہٹ کر براہ راست معاشی اور تجارتی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے، توانائی کے منصوبوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے انتہائی اہم تھا، تاہم اب اس منصوبے کی روح کو بدل کر اسے صنعتی انقلاب اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر اہتمام ہونے والی مختلف کانفرنسوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان اور چین کی یہ لازوال دوستی اب اقتصادی استحکام اور تجارتی خود انحصاری کی جانب گامزن ہے۔ اس نئے مرحلے میں چینی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان کے مختلف شعبوں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور لیتھیم کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کے تازہ ترین اعلانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب سی پیک صرف ٹرانسپورٹ نیٹ ورک تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ شعبے نہ صرف ملکی برآمدات میں اضافے کا باعث بنیں گے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی منتقلی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ چینی سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں دلچسپی بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا کاروباری ماحول اب سرمایہ کاری کے لیے زیادہ موزوں اور پرکشش ہو رہا ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ سی پیک کے ذریعے پاکستان کی صنعتی صلاحیت کو بڑھایا جائے تاکہ ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ چینی صدر شی جن پنگ کے گورننس ماڈل سے سیکھتے ہوئے پاکستان اپنی انتظامی صلاحیتوں اور کاروباری پالیسیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مرحلہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے صنعتی شعبے کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالے اور برآمدات کو فروغ دے کر ادائیگیوں کے توازن کے دیرینہ مسائل پر قابو پائے۔ مجموعی طور پر، سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کی معاشی تاریخ میں ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے اگر بروقت اور درست سمت میں حکمت عملی پر عمل درآمد کیا جائے۔