LIVE
Loading Breaking News...

اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو: خطے میں قیام امن پر اتفاق

News Image
پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی جس میں خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے میں رونما ہونے والی حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارتی ذرائع اور باہمی مشاورت کا عمل ناگزیر ہے۔ یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں مختلف سیکیورٹی اور سیاسی امور پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔ گفتگو کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کا عالمی اور علاقائی امور پر ہم آہنگ موقف موجود ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں قیام امن کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ طویل المدتی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی پاکستان کی جانب سے علاقائی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ دونوں جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل میں بھی اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ مشترکہ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اس بات چیت کو پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آخر میں، دونوں رہنماؤں نے غزہ سمیت دیگر اہم بین الاقوامی امور پر بھی مختصر بات چیت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ اس ٹیلی فونک رابطے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور ترکی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں گے۔