LIVE
Loading Breaking News...

گینگسٹر شہزاد بھٹی کا نیٹ ورک اور پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا پردہ فاش

News Image
خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ گینگسٹر شہزاد بھٹی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھرتی کر رہا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بھارت کی جانب سے ان گرفتاریوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے بے بنیاد الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق گینگسٹر شہزاد بھٹی کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے بھرتی کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ بھٹی خاص طور پر کم عمر اور جذباتی نوجوانوں کو ٹارگٹ کرتا ہے تاکہ انہیں غلط راستے پر گامزن کر کے اپنے نیٹ ورک کا حصہ بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے کا عمل ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ دوسری جانب بھارتی حکام کی جانب سے ان گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم دفتر خارجہ نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی کرنے کی پرانی عادت کا شکار ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت داخلی سکیورٹی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کے لیے اس طرح کے جھوٹے بیانیے کو فروغ دے رہا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی واضح پالیسی پر قائم ہے اور اس طرح کے من گھڑت الزامات حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے اس دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کا ذہن سازی کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ شہزاد بھٹی جیسے گینگسٹرز جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھا کر نادان نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ جبکہ عوامی سطح پر بھی والدین کو اپنے بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ کسی بھی غیر قانونی نیٹ ورک کا حصہ بننے سے بچ سکیں۔ مستقبل میں اس معاملے کی مزید تہہ تک پہنچنے کے لیے سکیورٹی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ بھارت اپنی منفی پروپیگنڈا مہم بند کرے اور خطے میں امن کے لیے تعمیری رویہ اختیار کرے۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ حساس نوعیت کا حامل ہے اور اس کے تدارک کے لیے علاقائی سطح پر تعاون اور بیداری کی اشد ضرورت ہے۔