World
ایران اور امریکہ مذاکرات: 60 روزہ ڈیڈ لائن کا خاتمہ
ایران نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والی ساٹھ روزہ مذاکراتی ڈیڈ لائن کو غیر متعلقہ قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مفاہمت کی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد یہ مدت اپنی افادیت کھو چکی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیشرفت میں ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے مقرر کردہ ساٹھ روزہ ڈیڈ لائن اب اپنی افادیت کھو چکی ہے اور اسے کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے باہمی مفاہمت کی یادداشت کی مسلسل خلاف ورزیوں اور وعدہ خلافیوں کے بعد اس ڈیڈ لائن کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت باقی نہیں رہی۔ ایران کے مطابق امریکہ نے مذاکرات کے دوران تعمیری رویہ اپنانے کے بجائے سخت گیر موقف برقرار رکھا جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان کوئی بھی وسیع تر سمجھوتہ طے پانے میں ناکام رہا ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ مہینوں میں جاری یہ مذاکراتی عمل بنیادی طور پر اس مقصد کے تحت شروع کیا گیا تھا کہ خطے میں جاری جنگی صورتحال اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اس ڈیڈ لائن کے ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ امریکہ نے عالمی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کے نتیجے میں سفارتی کوششیں جمود کا شکار ہو گئیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے بھی ایران پر معاہدے کے شرائط سے انحراف کرنے کا الزام لگایا ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
اس پیشرفت کے بعد اب مشرق وسطیٰ میں سفارتی افق پر غیر یقینی کے بادل چھا گئے ہیں۔ عالمی برادری اور علاقائی طاقتیں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، کیونکہ مذاکرات کے اس ناکام دور کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرینِ خارجہ امور کا کہنا ہے کہ اب دونوں ممالک کے درمیان کسی نئے سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے دوبارہ صفر سے شروعات کرنا ہوں گی، تاہم موجودہ سیاسی ماحول میں ایسا ہوتا فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تہران کی جانب سے ڈیڈ لائن ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اب ایران اپنے جوہری اور علاقائی پروگراموں کے حوالے سے مزید آزادانہ فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے، جو کہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔