LIVE
Loading Breaking News...

طلباء کے لیے مصنوعی ذہانت کی عملی تربیت: ایچ سی ایل ٹیک کی اہم پہل

News Image
ایچ سی ایل ٹیک اور اکنامک ٹائمز نے انجینئرنگ کے طلباء کو مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرانے کے لیے آٹھ گھنٹے طویل اے آئی ماسٹرکلاس کا اہتمام کیا۔ اس تربیتی نشست میں 300 سے زائد طلباء نے شرکت کی جہاں انہیں اے آئی ماڈلز اور کلاؤڈ ڈیپلائمنٹ کی عملی تربیت دی گئی۔
حال ہی میں ایچ سی ایل ٹیک (HCLTech) اور اکنامک ٹائمز کے اشتراک سے انجینئرنگ کے طلباء کے لیے ایک خصوصی آٹھ گھنٹے پر محیط اے آئی ماسٹرکلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس تربیتی سیشن کا بنیادی مقصد نوجوان انجینئرز کو مستقبل کی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے کے لیے تیار کرنا تھا۔ اس اہم ورکشاپ میں ملک بھر سے تقریباً 300 کے قریب انجینئرنگ کے طلباء نے شرکت کی اور اے آئی کے شعبے میں ہونے والی جدید ترین پیش رفتوں کے بارے میں سیکھا۔ اس ماسٹرکلاس کے دوران طلباء کو اے آئی اسسٹڈ ڈیولپمنٹ اور لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ماہرین نے طلباء کو سکھایا کہ کس طرح جدید ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے عمل کو مزید تیز اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ عملی تربیت کے اس حصے میں طلباء نے یہ بھی سیکھا کہ کیسے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس انسانی مدد کے بغیر پیچیدہ مسائل حل کر سکتے ہیں اور ان کی افادیت کو صنعتی سطح پر کیسے لاگو کیا جاتا ہے۔ مزید برآں، ورکشاپ کا ایک اہم حصہ کلاؤڈ ڈیپلائمنٹ پر مرکوز تھا، جس میں خاص طور پر AWS Bedrock جیسے جدید کلاؤڈ پلیٹ فارمز کے استعمال پر روشنی ڈالی گئی۔ طلباء کو یہ سکھایا گیا کہ کس طرح اے آئی ماڈلز کو کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر کامیابی سے تعینات کیا جا سکتا ہے تاکہ انہیں بڑے پیمانے پر دستیاب کیا جا سکے۔ ایچ سی ایل ٹیک کے ماہرین نے اس موقع پر طلباء کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں انڈسٹری میں درپیش چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اس ماسٹرکلاس کے اختتام پر طلباء نے اس تجربے کو نہایت مفید قرار دیا اور کہا کہ ایسی عملی تربیت ان کے تعلیمی سفر اور مستقبل کے کیریئر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ منتظمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی اس طرح کے پروگرامز کا سلسلہ جاری رکھیں گے تاکہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند بنایا جا سکے اور انہیں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل کیا جا سکے۔