Business
انڈین ڈیفنس انڈیکس ریکارڈ سطح پر، دفاعی کمپنیوں کے حصص میں تیزی
بھارتی سٹاک مارکیٹ میں ڈیفنس انڈیکس 9,912 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ مڈھانی اور ایچ اے ایل سمیت دیگر دفاعی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
بھارتی سٹاک مارکیٹ میں دفاعی شعبے کی کمپنیاں ایک بار پھر مرکز نگاہ بن گئی ہیں، جہاں نفٹی انڈیا ڈیفنس انڈیکس (Nifty India Defence index) پیر کے روز اپنے تمام تر پچھلے ریکارڈ توڑتے ہوئے 9,912.75 کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران اس انڈیکس میں ایک فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو کہ مسلسل چوتھے کاروباری دن بھی تیزی کا تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت کی جانب سے دفاعی برآمدات میں اضافے اور مقامی سطح پر دفاعی آلات کی تیاری پر زور دینے سے ان کمپنیوں کے مالیاتی مستقبل کے حوالے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے۔
اس تیزی کے دوران جن کمپنیوں کے حصص نے نمایاں کارکردگی دکھائی ان میں مڈھانی (Midhani)، ہندستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) اور بی ای ایم ایل (BEML) سر فہرست ہیں۔ ان کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں 5 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے انڈیکس کو نئی بلندیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دفاعی شعبے میں آرڈرز کی بہتات اور حکومت کی جانب سے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافے کے باعث ان کمپنیوں کی آمدنی میں اضافے کی مضبوط توقعات پائی جاتی ہیں۔ خاص طور پر ایچ اے ایل جیسے بڑے اداروں کے پاس آرڈر بک کی مضبوط پوزیشن نے مارکیٹ کے جذبات کو مثبت سمت میں موڑ دیا ہے۔
مارکیٹ میں اس تیزی کی ایک بڑی وجہ عالمی سطح پر دفاعی سازوسامان کی مانگ میں اضافہ اور بھارت کی 'میک ان انڈیا' مہم کے تحت دفاعی خود انحصاری کے اہداف ہیں۔ طویل مدتی سرمایہ کار اب ان دفاعی کمپنیوں کو ایک محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ ان کمپنیوں کو طویل مدتی حکومتی معاہدے حاصل ہیں۔ اگرچہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا عنصر ہمیشہ موجود رہتا ہے، لیکن دفاعی شعبے میں مسلسل چوتھے دن کی تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کاروں کا ادارہ جاتی اعتماد کافی مضبوط ہے۔
آنے والے دنوں میں، مارکیٹ کے تجزیہ کار دفاعی انڈیکس کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ان کمپنیوں کی کارکردگی نہ صرف بھارتی معیشت کے لیے اہم ہے بلکہ یہ علاقائی دفاعی طاقت کے توازن کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو میں توازن برقرار رکھیں کیونکہ ریکارڈ بلندیوں پر پہنچنے کے بعد منافع کی بکنگ (Profit Booking) کے امکانات بھی موجود ہوتے ہیں۔ مجموعی طور پر، بھارت کا دفاعی شعبہ فی الحال سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز بنا ہوا ہے۔