Business
اے آئی مارکیٹ میں بحران: چینی ہیج فنڈز کا اینویڈیا سے انخلا
چین کے بڑے ہیج فنڈز نے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کو خطرے سے دوچار قرار دیتے ہوئے اینویڈیا اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کا ماننا ہے کہ اے آئی مارکیٹ ایک بڑے بلبلے کی شکل اختیار کر چکی ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے کیونکہ چین کے بڑے ہیج فنڈز نے امریکی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں بالخصوص اینویڈیا (Nvidia) اور دیگر امریکی ہائپر اسکیلرز سے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے۔ ان سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے کو ایک ’سپر ببل‘ قرار دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس شعبے میں قیمتیں حقیقی قدر سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں اور کسی بھی وقت بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا یہ اقدام عالمی سطح پر ٹیکنالوجی سیکٹر کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چینی ہیج فنڈز کی جانب سے اینویڈیا کے شیئرز کی فروخت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اب سرمایہ کار مصنوعی ذہانت کے حوالے سے محتاط ہو رہے ہیں۔ اینویڈیا جو کہ حال ہی میں دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شامل ہو چکا ہے، اس کے شیئرز کی قدر میں غیر معمولی اضافہ ہوا تھا، تاہم اب مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ یہ تیزی پائیدار نہیں ہے۔ چینی فنڈز اب اپنے پورٹ فولیو کو متنوع بنانے پر زور دے رہے ہیں تاکہ ممکنہ مارکیٹ کریش سے بچا جا سکے اور اپنے اثاثوں کو محفوظ کیا جا سکے۔
اس صورتحال نے عالمی سرمایہ کاروں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت کا انقلاب واقعی اتنی بڑی معاشی ترقی لا سکتا ہے جس کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بہت سے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے موجودہ ماڈل میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں شامل ہیں، جو اسے ایک خطرے کا باعث بناتی ہیں۔ چینی ہیج فنڈز کی طرف سے سرمایہ کاری کی منتقلی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب اے آئی کے علاوہ دیگر روایتی اور وسیع تر ٹیکنالوجی ایکو سسٹمز میں مواقع تلاش کر رہے ہیں تاکہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
مستقبل کے حوالے سے یہ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں ٹیکنالوجی اسٹاکس میں اتار چڑھاؤ کا عمل جاری رہ سکتا ہے۔ اگر دیگر بڑے سرمایہ کار ادارے بھی چینی فنڈز کی پیروی کرتے ہوئے اینویڈیا اور اسی نوعیت کی دوسری کمپنیوں سے انخلا کرتے ہیں، تو امریکی سٹاک مارکیٹ پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ فی الحال، مارکیٹ کے کھلاڑی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ محض ایک وقتی اصلاح ہے یا واقعی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کسی بڑے بحران کی ابتدا ہے۔