LIVE
Loading Breaking News...

ایشیائی اسٹاک مارکیٹ: چین اور ہانگ کانگ میں ٹیکنالوجی سیکٹر کا عروج

News Image
چین اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹوں میں ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کمپنیوں کے بہترین مالیاتی نتائج کے بعد حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب ملکی معاشی اعداد و شمار پر نظریں جمائے ہوئے ہیں تاکہ مقامی طلب اور اقتصادی صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکے۔
چین اور ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیوں کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر (چپ بنانے والی) کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کا توقعات سے بہتر ہونا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے ان کمپنیوں کے حصص کی خریداری میں دلچسپی نے انڈیکس کو اوپر کی جانب دھکیلا ہے، جس سے مارکیٹ کے مجموعی مزاج میں بہتری آئی ہے۔ سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں یہ تیزی عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور ان کمپنیوں کی مضبوط کارکردگی کا عکاس ہے۔ تاہم مارکیٹ کے دیگر شعبوں میں ملا جلا رجحان بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ کنزیومر اور لکر (شراب ساز) کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ دیکھی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارکیٹ کے کچھ شعبے ابھی بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان شعبوں میں کمزوری کا تعلق مقامی طلب میں غیر یقینی صورتحال سے جوڑا جا سکتا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے پر مجبور کیا ہے۔ اس وقت سرمایہ کاروں کی مکمل توجہ اہم معاشی اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔ چین کے جاری ہونے والے حالیہ معاشی ڈیٹا پر مارکیٹ کے کھلاڑی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ اعداد و شمار نہ صرف ملکی طلب کی عکاسی کریں گے بلکہ یہ بھی بتائیں گے کہ چین کی معاشی بحالی کس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں ڈومیسٹک ڈیمانڈ کے حوالے سے مثبت اشارے ملتے ہیں، تو اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا یہ رجحان مزید مستحکم ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، سرمایہ کار محتاط انداز اپناتے ہوئے ہر نئے معاشی ڈیٹا سے اشارے لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مارکیٹ کے شرکاء کا خیال ہے کہ آنے والے ہفتے معاشی پالیسیوں اور کارپوریٹ منافع کے حوالے سے فیصلہ کن ہوں گے، جو مستقبل میں مارکیٹ کی سمت کا تعین کریں گے۔