LIVE
Loading Breaking News...

جیرڈ کوشنر کا غزہ کی تعمیر نو اور حماس کے غیر مسلح ہونے پر اہم بیان

News Image
سابق امریکی مشیر جیرڈ کوشنر نے واضح کیا ہے کہ حماس کے مکمل طور پر غیر مسلح ہونے تک غزہ میں تعمیر نو کے عمل کو شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خطے میں امن کے لیے حماس کا غیر مسلح ہونا پہلی اور بنیادی شرط ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور مشرق وسطیٰ کے امور کے سابق ایلچی جیرڈ کوشنر نے غزہ کی صورتحال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتی، تب تک غزہ کی تعمیر نو کی کسی بھی کوشش کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کوشنر نے ایک بیان میں واضح کیا کہ بین الاقوامی برادری اور اسرائیل کے لیے یہ ایک سرخ لکیر ہے کہ جنگ زدہ علاقے میں دوبارہ تعمیراتی کاموں کا آغاز اس وقت تک نہ ہو جب تک حماس کی عسکری صلاحیتوں کو ختم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے زور دیا کہ حماس کا غیر مسلح ہونا نہ صرف غزہ کے عوام کے مستقبل کے لیے بلکہ پورے خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ اس معاملے پر جیرڈ کوشنر کی حالیہ سرگرمیاں کافی تیز ہو گئی ہیں، جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، کوشنر خطے کے دیگر علاقائی رہنماؤں سے بھی مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے مجوزہ منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔ نیتن یاہو کے ساتھ حالیہ ملاقات کو کافی مثبت قرار دیا گیا ہے، جس میں غزہ کی صورتحال کو بہتر بنانے اور مستقبل کے حفاظتی انتظام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بیانات ایک نئے سفارتی دباؤ کا حصہ ہیں جس کا مقصد حماس کو مذاکرات کی میز پر لانے یا اسے مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے کے لیے مجبور کرنا ہے۔ دوسری جانب، غزہ میں جاری کشیدگی اور انسانی بحران نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیلی فضائی کارروائیوں اور مختلف محاذوں پر جاری جھڑپوں کے درمیان، امریکی ایلچی کی طرف سے یہ شرط سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا عمل ممکنہ طور پر 30 دن کی مدت کے اندر شروع کیا جا سکتا ہے، تاہم حماس کی جانب سے فی الحال اس مطالبے کو مسترد کیے جانے کے اشارے مل رہے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک بھی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ غزہ کی تعمیر نو صرف امداد پر منحصر نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی سمجھوتے کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جو مستقبل میں مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو تبدیل کر سکتی ہے۔