LIVE
Loading Breaking News...

مسلم ممالک کا اسرائیل کے خلاف سخت موقف: غزہ امن منصوبے پر ڈیڈ لاک

News Image
سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ سے انخلاء کے امن منصوبے کو مسترد کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان ممالک کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے حائل رکاوٹیں دور کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
سعودی عرب سمیت آٹھ اہم مسلم ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی اور انخلاء کے مجوزہ امن منصوبے کو مسترد کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے جاری ان ردعمل میں اسرائیل کے اس موقف کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا گیا ہے جس میں نیتن یاہو نے حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک کسی بھی قسم کے انخلاء سے صاف انکار کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سفارتی سطح پر ہونے والی پیش رفت کے باوجود اسرائیل کا سخت رویہ خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کا سبب بن رہا ہے، جس پر اسلامی دنیا نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے پر ہونے والی حالیہ پیش رفت کے مطابق، بورڈ آف پیس ایک نئے تخفیف اسلحہ کے فریم ورک پر غور کر رہا ہے تاکہ تنازع کا کوئی درمیانی راستہ نکالا جا سکے۔ ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے قاہرہ میں اپنے حالیہ دورے کے دوران اسرائیل کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں امن کا قیام اب عالمی ذمہ داری ہے اور اسرائیل کو کسی بھی صورت میں رکاوٹیں پیدا کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ نہ بنیں اور امن منصوبے پر پیش رفت کو یقینی بنائیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف بدستور اپنی جگہ قائم ہے کہ جب تک حماس کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جاتا، اسرائیلی افواج غزہ سے دستبردار نہیں ہوں گی۔ نیتن یاہو کی حکومت کا یہ اصرار کہ سیکیورٹی خدشات اولین ترجیح ہیں، بین الاقوامی ثالثوں کے لیے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ مسلم ممالک کا اتحاد اب اس بات پر زور دے رہا ہے کہ انسانی بحران کو مزید طول دینا خطے کے استحکام کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتا ہے، تو اسے عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آٹھ مسلم ممالک کے اس مشترکہ ردعمل نے اسرائیل پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں بھی ایک منصفانہ حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں سفارتی مذاکرات کی نوعیت طے کرے گی کہ آیا غزہ میں طویل عرصے سے جاری اس خونریز تنازع کا کوئی پرامن حل نکل پائے گا یا خطہ مزید جنگ کی طرف بڑھے گا۔