Pakistan
پاکستان اور برطانیہ: شبیر احمد کی حوالگی پر ڈیڈ لاک
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے روچڈیل گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی زبردستی واپسی پر اصرار کیا تو وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کا عمل روک سکتا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
لندن سے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تارکینِ وطن کی واپسی کے معاملے پر ایک نیا سفارتی بحران جنم لے رہا ہے۔ معاملہ روچڈیل گرومنگ گینگ کے بدنام زمانہ سرغنہ شبیر احمد کی برطانیہ سے پاکستان حوالگی سے متعلق ہے۔ پاکستانی حکام نے برطانوی حکومت کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر لندن انتظامیہ نے اس کیس میں زبردستی اور دباؤ کا راستہ اختیار کیا تو اسلام آباد غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن کی واپسی کا معاہدہ منسوخ کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری تعاون کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق برطانوی حکام شبیر احمد کو ڈیپورٹ کرنے کے لیے بے تاب ہیں جو ماضی میں سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے، تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کے تحت کسی بھی شخص کی واپسی کا عمل شفاف اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ برطانیہ اس معاملے میں یکطرفہ اقدامات اٹھا رہا ہے جو کہ خود مختار ملک کے ضوابط کے منافی ہیں۔ اگر یہ تنازع حل نہ ہوا تو اس کا براہ راست اثر ہزاروں پاکستانیوں پر پڑے گا جو قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم ہیں یا جن کی واپسی کا عمل زیر التواء ہے۔
واضح رہے کہ روچڈیل گرومنگ گینگ کا کیس برطانیہ کی تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں سے ایک ہے، جس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنا برطانوی حکومت کے لیے سیاسی اور سماجی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کے حقوق اور عالمی اصولوں کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سفارتی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے تاکہ قانونی پیچیدگیوں کو دور کیا جا سکے اور کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدام سے گریز کیا جا سکے جس کے نتائج دونوں فریقین کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی جانب سے یہ دھمکی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد اپنی امیگریشن پالیسیوں میں کسی قسم کی غیر قانونی مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں یہ موضوع مرکزی حیثیت اختیار کر سکتا ہے اور عالمی برادری کی نظریں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا برطانیہ اس معاملے میں نرمی اختیار کرتا ہے یا پاکستان اپنے مؤقف پر ڈٹا رہتا ہے۔