LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت اور جنگ: کیا اے آئی جدید جنگی قوانین پر پورا اترتی ہے؟

News Image
مصنوعی ذہانت سے لیس خودکار ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جنگی قوانین کے اطلاق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین اس ٹیکنالوجی کی درستگی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بین الاقوامی انسانی قوانین کے تناظر میں پرکھ رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کا میدان تیزی سے دفاعی اور عسکری ٹیکنالوجی میں داخل ہو رہا ہے، جس نے ماہرینِ قانون اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سارہ شوکر، جو یو سی برکلے کے رسک اینڈ سکیورٹی لیب میں اے آئی کی ماہر ہیں، اور یوٹریچ یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر جیسیکا ڈورسی نے اپنی تحقیق میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ہتھیاروں کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون (IHL) کے تحت کس حد تک قابلِ قبول ہے۔ یہ ٹیکنالوجی جہاں درستگی کے دعوے کرتی ہے، وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مشینی فیصلے جنگی اصولوں کی پاسداری کر سکتے ہیں؟ ماہرین کے مطابق اے آئی کے ماڈلز کی جانچ پڑتال کا عمل بہت پیچیدہ ہے کیونکہ جنگی حالات میں ڈیٹا کی درستگی اور تعصب (Bias) کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کا بنیادی اصول 'امتیاز' ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی کارروائی کے دوران عسکری اور شہری اہداف کے درمیان فرق کرنا لازمی ہے۔ اگر کوئی اے آئی سسٹم غلطی سے کسی شہری آبادی کو ہدف بنا لیتا ہے تو اس کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ابھی تک عالمی قوانین میں پوری طرح واضح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال ہونے والا ڈیٹا اگر نامکمل ہو تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ میں 'ٹیسٹنگ' کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ معمولی سی تکنیکی خرابی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ خودکار ہتھیاروں کے استعمال کے لیے سخت بین الاقوامی ضوابط بنائے جائیں تاکہ ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار اور قانون کے تابع رکھا جا سکے۔ مستقبل میں جیسے جیسے مصنوعی ذہانت جنگی میدان میں مزید اثر انداز ہوگی، ریاستوں کو اپنے دفاعی ڈاکٹرائن میں تبدیلی لانا ہوگی۔ شفافیت، جوابدہی، اور انسانی کنٹرول کا تسلسل وہ تین ستون ہیں جن پر جدید جنگی ٹیکنالوجی کی عمارت کھڑی ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی قانون ساز اداروں کو بھی اب اپنی قانون سازی میں جدید ٹیکنالوجی کے ان پہلوؤں کو شامل کرنا ہوگا تاکہ تکنیکی ترقی انسانی حقوق کے تحفظ میں رکاوٹ نہ بنے۔