LIVE
Loading Breaking News...

یوکرین کا میزائل انٹرسیپٹ اعداد و شمار جاری کرنے سے انکار

News Image
یوکرین کی فضائیہ نے مغربی ممالک سے فراہم کردہ پیٹریاٹ میزائل سسٹم کے ذخائر ختم ہونے کے خدشات کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر میزائل انٹرسیپٹ کی رپورٹنگ روک دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک کے دفاعی نظام میں شدید قلت اور جاری جنگی صورتحال کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
یوکرین کی فضائیہ نے باضابطہ طور پر روزانہ کی بنیاد پر اپنے میزائل انٹرسیپٹ یعنی دشمن کے میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے اعداد و شمار جاری کرنے کا سلسلہ بند کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ممالک کی جانب سے فراہم کردہ جدید ترین پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یوکرین کو اپنے فضائی دفاعی نظام کو برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماضی میں یوکرین روزانہ کی بنیاد پر یہ بتاتا تھا کہ اس نے روس کے کتنے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے، تاہم اب اس پالیسی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی بتائی جا رہی ہے۔ پیٹریاٹ سسٹم یوکرین کے فضائی دفاع کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کی سپلائی میں تعطل کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین اب بڑے پیمانے پر ہونے والے روسی فضائی حملوں کو روکنے کی صلاحیت کھو رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، مغربی اتحادی ممالک بھی اب یوکرین کو مطلوبہ مقدار میں گولہ بارود اور انٹرسیپٹر میزائل فراہم کرنے میں تاخیر کا شکار ہیں، جس کے نتیجے میں یوکرین کا دفاعی ڈھانچہ دباؤ کا شکار ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ یوکرین کی عسکری قیادت اب جنگ کی حکمت عملی میں ردوبدل کر رہی ہے تاکہ اپنے محدود وسائل کو طویل مدت تک برقرار رکھا جا سکے۔ دوسری جانب، فوجی تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ معلومات کو خفیہ رکھنا ایک دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے تاکہ روس کو یہ معلوم نہ ہو سکے کہ یوکرین کے پاس کتنا گولہ بارود باقی بچا ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ پیٹریاٹ میزائلوں کی قلت ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے جو یوکرین کے بڑے شہروں اور اہم تنصیبات کے تحفظ کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ یوکرین کے حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے، لیکن بین الاقوامی مبصرین اس پیشرفت کو یوکرین کے لیے ایک بڑے عسکری بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس صورتحال نے مغربی ممالک پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ یوکرین کی فوجی امداد میں تیزی لائیں تاکہ روس کے مسلسل فضائی حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔