Technology
مصنوعی ذہانت پر عالمی کشمکش: امریکہ اور چین کے درمیان مقابلہ تیز
امریکی محکمہ خارجہ نے 35 ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے امریکی قیادت والے اتحاد یا چین کے بلاک میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ قازقستان کی جانب سے دونوں اتحادوں میں شمولیت پر امریکہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت وارننگ جاری کی ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی بالادستی کی جنگ اب مصنوعی ذہانت (AI) کے میدان میں منتقل ہو چکی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں ایک اہم مسودہ تیار کیا ہے جس کے ذریعے 35 ممالک سے دو ٹوک مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کسی ایک عالمی طاقت کا انتخاب کریں۔ امریکہ کی جانب سے پیش کردہ 'پیکس سلیکا' (Pax Silica) فریم ورک اور چین کے مصنوعی ذہانت کے حریف اتحاد کے درمیان جاری اس کشمکش نے دنیا کو دو واضح کیمپوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اگر ممالک دونوں طرف جھکاؤ رکھیں گے تو اس سے ٹیکنالوجی کے تحفظ اور ڈیٹا سیکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس امریکی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اہم جدید ٹیکنالوجیز اور اے آئی کے ترقی یافتہ ماڈلز تک چین کی رسائی کو محدود کیا جا سکے۔
اس صورتحال میں قازقستان کا کیس سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ قازقستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے بظاہر دونوں اے آئی بلاکس کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے، جس پر واشنگٹن نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی 'دوہری وفاداری' تکنیکی طور پر ناقابل قبول ہے اور اس سے امریکی قومی سلامتی کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے قازقستان سمیت دیگر ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنی خارجہ ٹیکنالوجی پالیسی پر نظر ثانی کریں بصورت دیگر انہیں سفارتی اور اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اب اپنی ٹیکنالوجیکل برتری برقرار رکھنے کے لیے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی اپنا رہا ہے۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عالمی تقسیم ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی 'سرد جنگ' کی شروعات ہے۔ کئی چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک اس کشمکش میں پھنس چکے ہیں کیونکہ ان کے لیے امریکہ اور چین دونوں ہی اقتصادی اور تکنیکی لحاظ سے ناگزیر ہیں۔ اگر دنیا کو مکمل طور پر دو بلاکس میں تقسیم کر دیا گیا تو اس کے نتیجے میں عالمی تجارت اور ریسرچ کے شعبے میں غیر معمولی رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔ چین تاحال اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے اسے 'ٹیکنالوجی کے ذریعے سیاست کرنے' کا نام دے رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا 35 ممالک امریکی دباؤ کو قبول کرتے ہیں یا وہ اپنی خود مختار ٹیکنالوجی پالیسیوں پر قائم رہتے ہیں۔