LIVE
Loading Breaking News...

جنریشن زی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس: ایچ پی ایگزیکٹو کی اہم رائے

News Image
ایچ پی کے سینئر ایگزیکٹو جارج بریشر نے جنریشن زی کو 'اے آئی مقامی' قرار دیتے ہوئے ان کے کام کرنے کے انداز کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر لگائے جانے والے سستی کے لیبل کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سیکھنے اور اعتماد سازی کی مہارتوں کو سراہا ہے۔
ایچ پی کے سینئر وائس پریزیڈنٹ اور منیجنگ ڈائریکٹر جارج بریشر نے حالیہ بیان میں جنریشن زی (Gen Z) کو 'اے آئی نیٹو' یا مصنوعی ذہانت کے مقامی قرار دیا ہے۔ انہوں نے ان نوجوانوں پر لگائے جانے والے سستی اور کاہلی کے لیبل کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ نسل ٹیکنالوجی کے ساتھ جس طرح ہم آہنگ ہوئی ہے، وہ مثال ہے۔ بریشر کے مطابق، جنریشن زی نہ صرف اے آئی ٹولز کو اپنی روزمرہ زندگی اور کام کا حصہ بنا چکی ہے، بلکہ ان میں سیکھنے کی رفتار بھی حیران کن ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان اپنے پیشروؤں کے مقابلے میں ڈیجیٹل دنیا کو بہتر سمجھتے ہیں اور ٹیکنالوجی کو اپنے کیریئر کے لیے ایک مضبوط ستون کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ جارج بریشر نے مزید کہا کہ جنریشن زی کی سب سے بڑی طاقت ان کی سننے اور سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ وہ صرف ٹیکنالوجی پر انحصار نہیں کرتے بلکہ اس کے ذریعے کسٹمرز کی ضروریات کو گہرائی سے سمجھتے ہیں۔ کارپوریٹ کلچر میں اعتماد سازی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوان ملازمین اپنے کام کے دوران شفافیت کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے کاروباری تعلقات میں پائیداری پیدا ہوتی ہے۔ یہ خصوصیات انہیں روایتی کام کرنے کے طریقوں سے منفرد بناتی ہیں اور انہیں مستقبل کے لیڈروں کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ پی جیسے بڑے اداروں کے اعلیٰ حکام کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں اب ٹیکنالوجی کی مہارت کے ساتھ ساتھ انسانی رویوں اور جذباتی ذہانت کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے۔ جنریشن زی کے بارے میں پایا جانے والا یہ منفی تاثر کہ وہ کام کے لیے سنجیدہ نہیں، اب دم توڑ رہا ہے۔ اس کے برعکس، کمپنیاں اب ان نوجوانوں کو اپنی ترقی کا کلیدی حصہ سمجھ رہی ہیں کیونکہ وہ اے آئی کے دور میں نئی اختراعات متعارف کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے جارج بریشر نے امید ظاہر کی کہ جنریشن زی کا اے آئی کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہوگا، جس سے نہ صرف کام کی رفتار بڑھے گی بلکہ تخلیقی عمل میں بھی ایک نیا انقلاب آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اگر ان نوجوانوں کی صلاحیتوں کو درست سمت میں استعمال کریں تو وہ دنیا بھر میں کاروباری ماڈلز کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ نوجوان نسل نہ صرف مستقبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے بلکہ وہ ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک زیادہ بہتر اور کارآمد معاشرے کی تشکیل کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔