World
امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں میں کمی کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ سیول کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ ان مشقوں کے آغاز سے چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جس پر جنوبی کوریا میں احتجاج بھی جاری ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ سیول کے ساتھ اپنی مشترکہ فوجی مشقوں کے دائرہ کار کو محدود کرنے جا رہا ہے۔ یہ اعلان ان فوجی مشقوں کے باقاعدہ آغاز سے صرف چند گھنٹے قبل سامنے آیا ہے جنہیں 'الچی فریڈم شیلڈ' (UFS) کا نام دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور سفارتی کوششوں کا ایک نیا دور جاری ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر جزیرہ نما کوریا میں امن مذاکرات کو فروغ دینے اور شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی ایک حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں اس اعلان کے باوجود عوامی سطح پر ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف مقامات پر مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا کر ان مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ان مشقوں سے خطے کا امن خطرے میں پڑتا ہے اور یہ شمالی کوریا کے لیے اشتعال انگیزی کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر احتیاط سے کام لیا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن اور سیول کے درمیان دفاعی معاہدے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق 'الچی فریڈم شیلڈ' مشقیں روایتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تیاریوں کو جانچنے کا ایک بڑا ذریعہ رہی ہیں۔ تاہم ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے مشقوں کو محدود کرنے کا فیصلہ عسکری اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ اس اقدام سے جہاں ایک طرف دفاعی اخراجات کو کم کرنے کا اشارہ ملتا ہے، وہیں دوسری طرف یہ اتحادی ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ فیصلہ شمالی کوریا کی جانب سے کسی مثبت ردعمل کا باعث بنتا ہے یا خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا ہے۔
حکومتی ترجمانوں کے مطابق، دونوں ممالک اب بھی اپنے دفاعی وعدوں پر قائم ہیں لیکن بدلتے ہوئے عالمی سیاسی حالات کے تناظر میں حکمت عملی میں لچک پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہ پیش رفت جزیرہ نما کوریا میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکی قیادت اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سفارتی راستے ہی خطے میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتے ہیں، جبکہ فوجی مشقوں میں کمی اسی مقصد کے حصول کے لیے ایک عملی قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔