World
جنوبی کوریا اور امریکہ تعلقات، صدر لی کا بڑا بیان
جنوبی کوریا کے صدر لی نے ملک کو بدترین سکیورٹی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
سیئول: جنوبی کوریا کے صدر لی نے ملک کو ایک نئے اور کٹھن سکیورٹی چیلنج کے پیش نظر بدترین صورتحال کے لیے تیار رہنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ یہ اہم بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے اپنے کلیدی ایشیائی اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں نمایاں کمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ماہرینِ سیاسیات کے مطابق اس قدم سے خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے پر عالمی سطح پر شدید ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھولنا خطے میں امن کے لیے سودمند ہو سکتا ہے، وہیں دوسری طرف قانون سازوں اور دفاعی ماہرین نے اسے ایک غیر سنجیدہ اور جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے روایتی دفاعی اتحاد کمزور پڑ سکتے ہیں۔
اس پیشرفت کے بعد جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنی دفاعی حکمت عملی پر از سر نو غور شروع کر دیا ہے۔ صدر لی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ عالمی برادری بھی کورین جزیرہ نما میں بدلتی ہوئی ان سکیورٹی حرکیات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔