World
مشرق وسطیٰ میں نیا دفاعی اتحاد اور امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ
مشرق وسطیٰ میں امریکی تسلط کا روایتی دور ختم ہو چکا ہے جس کا واضح ثبوت حالیہ اہم دفاعی معاہدے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے مابین طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔
مشرق وسطیٰ کا جغرافیائی سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور خطے میں کئی دہائیوں سے قائم امریکی قیادت کا نظام اب اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ حالیہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، خلیجی اور مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اپنی سلامتی اور اقتصادی مستقبل کے لیے روایتی مغربی طاقتوں پر انحصار کم کرتے ہوئے باہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا حالیہ دفاعی معاہدہ اس تبدیلی کی سب سے بڑی اور واضع دلیل ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مکہ معاہدے اور اس نوعیت کے دیگر علاقائی اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اب اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت اور خواہش رکھتے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے اس خطے کے قریب آنے کو سراہا ہے، جہاں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان جیسے اہم ممالک ایک مضبوط دفاعی ڈھانچے کے تحت متحد ہو رہے ہیں۔ اس اتحاد کے نتیجے میں نہ صرف عسکری اور دفاعی شعبے میں تعاون بڑھے گا بلکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی ایک نئے انداز میں تشکیل پائے گا۔
اس نئے اتحاد کا دائرہ کار مزید وسیع ہونے کے امکانات بھی روشن ہو چکے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے اشارہ دیا ہے کہ مصر بھی مستقبل میں ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے اس دفاعی معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اگر مصر اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ مسلم دنیا اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک بلاک بن جائے گا۔ اس سے نہ صرف بحیرہ روم اور خلیج فارس کے امور میں استحکام آئے گا بلکہ خطے کی معاشی اور عسکری ترقی کو بھی ایک نئی سمت ملے گی۔
ماہرین کے مطابق، یہ نیا علاقائی سکیورٹی ڈھانچہ اس بات کا غماز ہے کہ دنیا اب کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں علاقائی طاقتیں خود اپنے فیصلوں کی مالک ہیں۔ امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ روایتی اتحادی اب اپنی سلامتی کے لیے اپنے علاقائی شراکت داروں پر زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس نئے دفاعی اتحاد کے اثرات پوری دنیا کی سیاست اور معیشت پر واضح طور پر محسوس کیے جائیں گے۔