LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی اور عالمی منڈیوں کا احوال

News Image
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود امریکی ڈالر کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ سرمایہ کاروں نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے سخت مانیٹری پالیسی کی توقعات کو کم کر دیا ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس تبدیلی کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاروں اور تاجروں کی جانب سے امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کی توقعات کو کم کرنا ہے۔ اگرچہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود ڈالر اپنی روایتی محفوظ پناہ گاہ والی حیثیت سے ہٹ کر دباؤ کا شکار ہے۔ منڈی کے شرکاء اب امریکی مانیٹری پالیسی کے آئندہ لائحہ عمل اور مجموعی خطرے کی بھوک کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ فنانشل مارکیٹس کی رپورٹس کے مطابق ڈالر کے زوال کا یہ سلسلہ شمالی امریکہ کے سیشن کے آغاز سے قبل کچھ حد تک مستحکم ضرور ہوا، لیکن مجموعی طور پر اس کی راہ میں مشکلات برقرار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی اشاریوں اور مہنگائی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں کا یہ مؤقف بن گیا ہے کہ فیڈرل ریزرو اب مزید سخت اقدامات سے گریز کر سکتا ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر کرنسی مارکیٹ پر پڑ رہا ہے جہاں دیگر بڑی کرنسیوں کو ڈالر کے مقابلے میں سانس لینے کا موقع مل رہا ہے۔ دوسری جانب، کموڈٹی مارکیٹس اور ڈیجیٹل اثاثوں جیسے کہ بٹ کوائن پر بھی ان عالمی مالیاتی تبدیلیوں کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی معیشت کی رفتار اور فیڈرل ریزرو کے حکام کے بیانات مارکیٹ کے رخ کو طے کرنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ تاجر اس وقت انتہائی محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک معاشی تبدیلی سے بچا جا سکے اور نئے رجحانات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔