Business
ملازمتوں کے مواقع پانچ سال کی کم ترین سطح پر، چھوٹی کمپنیوں کا بھرتیاں روکنے کا فیصلہ
برطانیہ کے ادارہ شماریات کے مطابق چھوٹے کاروباری اداروں نے لیبر اور آپریٹنگ اخراجات بڑھ جانے کی وجہ سے نئی بھرتیوں کا عمل محدود کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ملک بھر میں ملازمتوں کے خالی آسامیوں کی تعداد پچھلے پانچ سالوں کے دوران سب سے کم سطح پر آ گئی ہے۔
برطانیہ کے معاشی منظر نامے میں ایک اہم تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں ملازمتوں کے خالی مواقع پچھلے پانچ سالوں کے دوران اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ملک کے سرکاری ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، چھوٹے کاروباری اداروں نے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی دباؤ کے پیش نظر نئی بھرتیوں کا سلسلہ نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کاروباری طبقہ اس وقت کس قدر کٹھن مالیاتی چیلنجز سے نبردآما ہے۔
رپورٹ کے مطابق، چھوٹی فرموں نے ان اقدامات کی بڑی وجہ لیبر اور آپریٹنگ لاگت میں ہونے والا ریکارڈ اضافہ قرار دیا ہے۔ اجرتوں کی بڑھتی ہوئی شرح، ٹیکسوں کے بوجھ اور روزمرہ کے کاروباری اخراجات نے چھوٹے کاروباری مالکان کے لیے نئے ملازمین کی گنجائش کو محدود کر دیا ہے۔ بہت سے چھوٹے کاروبار اپنی بقا اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اخراجات میں کٹوتیاں کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر ملازمت کے متلاشی افراد پر پڑ رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ چھوٹی کمپنیاں عموماً کسی بھی معیشت میں ملازمتیں فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہوتی ہیں۔ جب یہ ادارے اپنی بھرتیوں کو محدود کرتے ہیں تو نہ صرف بے روزگاری کے خدشات بڑھتے ہیں بلکہ مجموعی اقتصادی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جاتی ہے۔ اگرچہ بڑی کمپنیاں اب بھی کسی حد تک مارکیٹ میں متحرک ہیں، لیکن معیشت کے نچلے اور درمیانے درجے کے شعبوں میں یہ کساد بازاری تشویشناک صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
حکومتی حلقوں اور کاروباری انجمنوں پر اس صورتحال کے بعد دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ چھوٹے کاروباروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ پالیسی سازوں کو ایسے لائحہ عمل کی ضرورت ہے جس سے لیبر مارکیٹ میں توازن بحال ہو سکے اور معیشت کا یہ اہم پہیہ دوبارہ تیزی سے رواں دواں ہو سکے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا کاروباری لاگت میں کمی کے لیے کوئی نئی مراعات دی جاتی ہیں یا نہیں۔