World
سابق چینی وزیراعظم کی آخری رسومات اور عوامی سوگ پر سنسرشپ
چین میں سابق وزیراعظم ژو رونگجی کی آخری رسومات کے موقع پر حکومت نے عوامی سطح پر سوگ اور اجتماع پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ سابق رہنما کی یاد میں اٹھنے والی عوامی آوازیں موجودہ صدر شی جن پنگ کی پالیسیوں کے خلاف تنقید کا سبب بن سکتی ہیں۔
چین کے دارالحکومت میں سابق وزیراعظم کی آخری رسومات کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے عوامی سطح پر سوگ منانے پر کڑی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ریاستی حکام کسی بھی ایسے اجتماع یا عوامی تاثر کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں جو موجودہ قیادت کے خلاف کسی ممکنہ تنقید کا باعث بن سکے۔ سابق رہنما کی خدمات کو سرکاری سطح پر سراہا جا رہا ہے، تاہم عام شہریوں کی طرف سے جذبات کے اظہار اور ماضی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی یاد آوری کو سختی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ چینی انتظامیہ کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ سابقہ دور کی یادگار شخصیات کے اردگرد جمع ہونے والی عوامی ہمدردی اور پرانی یادیں موجودہ صدر شی جن پنگ کی حکمرانی اور پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور کسی بھی غیر مجاز اجتماع کو فوری طور پر روکا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے ملک کے اندر سیاسی ماحول اور عوامی اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومتی مشینری تمام تر میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ اس حساس موقع پر کسی بھی قسم کی منفی تشہیر یا حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی لہر کو پنپنے سے روکا جا سکے۔